خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 249 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 249

خطبات مسرور جلد 16 249 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 جون 2018 اس پر عُکاشہ اور ان کے ساتھی مدینہ کی طرف واپس لوٹ آئے اور کوئی لڑائی نہیں ہوئی۔(ماخوذ از سیرت خاتم النبیین از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب صفحہ 666) یعنی جو الزام لگایا جاتا ہے کہ ان لوگوں کو یا مسلمانوں کو جنگوں کا خاص شوق تھا۔لیکن ان لوگوں نے ان سے بلا وجہ کی جنگ ہونے کی بھی کوشش نہیں کی۔حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر سورۃ النصر نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال کو اذان دینے کا حکم دیا۔نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خطبہ ارشاد فرمایا جسے سن کر لوگ بہت روئے۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اے لوگو میں کیسا نبی ہوں ؟ اس پر ان لوگوں نے کہا اللہ آپ کو جزا دے۔آپ سب سے بہترین نبی ہیں۔آپ ہمارے لئے رحیم باپ کی طرح اور شفیق اور نصیحت کرنے والے بھائی کی طرح ہیں۔آپ نے ہم تک اللہ کے پیغام پہنچائے اور اس کی وحی پہنچائی اور حکمت اور اچھی نصیحت سے ہمیں اپنے رب کے راستے کی طرف بلایا۔پس اللہ آپ کو بہترین جزا دے جو وہ اپنے انبیاء کو دیتا ہے۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے مسلمانوں کے گروہ ! میں تمہیں اللہ کی اور تم پر اپنے حق کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ اگر کسی پر میری طرف سے کوئی ظلم یا زیادتی ہوئی ہو تو وہ کھڑ اہو اور میرے سے بدلہ لے۔مگر کوئی کھڑا نہ ہوا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری بار قسم دے کر کہا مگر کوئی کھٹڑا نہ ہوا۔آپ نے تیسری بار پھر فرمایا کہ اے مسلمانوں کے گروہ ! میں تمہیں اللہ اور تم پر اپنے حق کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ اگر کسی پر میری طرف سے کوئی ظلم یا زیادتی ہوئی ہو تو وہ اٹھے اور قیامت کے دن کے بدلہ سے پہلے میرے سے بدلہ لے۔اس پر لوگوں میں سے ایک بوڑھے شخص کھڑے ہوئے جن کا نام عُکاشہ تھا۔آپ مسلمانوں میں سے ہوتے ہوئے آگے آئے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رُوبرو کھڑے ہو گئے اور عرض کی۔یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ پر قربان۔اگر آپ نے بار بار قسم نہ دی ہوتی تو میں ہر گز کھڑا نہ ہوتا۔حضرت عکاشہ کہنے لگے۔میں آپ کے ساتھ ایک غزوہ میں تھا جس سے واپسی پر میری اونٹنی آپ کی اونٹنی کے قریب آگئی تو میں اپنی سواری سے اتر کر آپ کے قریب آیا تا کہ آپ کے پاؤں کو بوسہ دوں۔مگر آپ نے اپنی چھڑی ماری جو میرے پہلو میں لگی۔مجھے نہیں معلوم کہ وہ چھڑی آپ نے اونٹنی کو ماری تھی یا مجھے۔اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے جلال کی قسم کہ خدا کار سول جان بوجھ کر تجھے نہیں مار سکتا۔پھر آپ نے حضرت بلال کو مخاطب کر کے فرمایا اے بلال! فاطمہ کی طرف جاؤ۔حضرت فاطمہ کے گھر میں اور اس سے وہ چھڑی لے آؤ۔حضرت بلال گئے اور حضرت فاطمہ سے عرض کی کہ اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی! مجھے چھڑی دے دیں۔اس پر حضرت فاطمہ نے کہا اے بلال! میرے والد اس چھڑی کے ساتھ کیا کریں گے ؟ کیا یہ جنگ کے دن کی بجائے حج کا دن نہیں۔اس پر حضرت بلال نے کہا کہ اے فاطمہ آپ اپنے باپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کتنی بے خبر ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو الوداع کہہ رہے ہیں اور دنیا چھوڑ کر جا رہے ہیں اور اپنا بدلہ دے رہے ہیں۔اس پر حضرت فاطمہ نے حیرانگی سے پوچھا اے بلال! کس کا دل