خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 248
خطبات مسرور جلد 16 248 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 جون 2018 ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں ذکر ہوا کہ میری اُمت میں سے ستر ہزار لوگ بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔یعنی وہ ایسے روحانی مرتبہ پر فائز ہوں گے کہ ان کے لئے خدائی فضل و کرم اس قدر جوش میں ہو گا کہ ان کے حساب کتاب کی ضرورت نہیں ہو گی۔اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ ان لوگوں کے چہرے قیامت کے دن اس طرح چمکتے ہوں گے جس طرح چودہویں رات کا چاند آسمان پر چمکتا ہے۔اس پر حضرت عکاشہ نے عرض کیا کہ میرے لئے بھی دعا کریں اور آپ نے دعا کی کہ ان کو بھی ان میں شامل کر دے۔اس پر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے بڑے خوبصورت رنگ میں اس کی تفسیر بیان کی ہے اور تجزیہ کیا ہے۔آپ لکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس کا یہ ایک بظاہر چھوٹا سا واقعہ اپنے اندر بہت سے معارف کا خزانہ رکھتا ہے۔کیونکہ اول تو اس سے یہ علم حاصل ہوتا ہے کہ امت محمدیہ پر اللہ تعالیٰ کا اس درجہ فضل و کرم ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا روحانی فیض اس کمال کو پہنچا ہوا ہے کہ آپ کی اُمت میں سے ستر ہزار آدمی ایسا ہو گا جو اپنے نمایاں روحانی مقام اور خدا کے خاص فضل و کرم کی وجہ سے گویا قیامت کے دن حساب و کتاب کی پریشانی سے بالا سمجھا جائے گا۔ستر ہزار سے یہ بھی مراد لی جاتی ہے کہ ایک بڑی تعداد ہو گی۔دوسرے اس سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کے دربار میں ایسا قرب حاصل ہے کہ آپ کی روحانی توجہ پر خدا تعالیٰ نے فوراًبذریعہ کشف یا القاء آپ کو یہ علم دے دیا کہ عکاشہ بھی اس ستر ہزار کے گروہ میں شامل ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ عکاشہ پہلے اس گروہ میں شامل نہ ہو مگر آپ کی دعا کے نتیجہ میں خدا نے اسے یہ شرف عطا کر دیا ہو۔تیسرے اس واقعہ سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کا اس درجہ ادب ملحوظ تھا اور آپ اپنی اُمت میں جدوجہد کے عمل کو اس درجہ ترقی دینا چاہتے تھے کہ جب عُکاشہ کے بعد ایک دوسرے شخص نے آپ سے اسی قسم کی دعا کی درخواست کی تو آپ نے اس اخص روحانی مقام کے پیش نظر جو اس پاک گروہ کو حاصل ہے مزید انفرادی دعا سے انکار کر دیا اور مسلمانوں کو تقویٰ اور ایمان اور عمل صالح میں ترقی کرنے کی طرف توجہ دلائی۔اور یہ بتایا کہ اگر اس طرف توجہ رہے گی تو تمہیں مقام مل سکتا ہے۔چوتھے اس سے آپ کے اعلیٰ اخلاق پر یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلیٰ اخلاق پر بھی غیر معمولی روشنی پڑتی ہے۔کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار ایسے رنگ میں نہیں کیا جس سے سوال کرنے والے انصاری کی دل شکنی ہو بلکہ ایک نہایت لطیف رنگ میں اس بات کو ٹال دیا۔(ماخوذ از سیرت خاتم النبیین از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب صفحہ 667 تا 668) حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عُکاشہ کو مختلف سرایا میں ، جنگوں میں جو فوجیں بھیجی جاتی تھیں ان میں امیر بنا کر بھیجا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ربیع الاول چھ ہجری میں حضرت عُکاشہ کو چالیس مسلمانوں کا افسر بنا کر قبیلہ بنی اسد کے مقابلے پر روانہ فرمایا۔یہ قبیلہ ایک چشمہ کے قریب ڈیرہ ڈالے پڑا تھا جس کا نام غمر تھا جو مدینہ سے مکہ کی سمت میں چند دن کے فاصلے پر تھا۔عُکاشہ کی پارٹی جلدی جلدی سفر کر کے قریب پہنچی تا کہ انہیں شرارت سے روکا جائے تو معلوم ہوا کہ قبیلے کے لوگ مسلمانوں کی خبر پا کر ادھر اُدھر منتشر ہو گئے تھے۔