خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 247 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 247

خطبات مسرور جلد 16 247 22 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 جون 2018 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 01 جون 2018ء بمطابق 01 احسان 1397 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یوکے تشہد و تعوذ اور سورہ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی حضرت عکاشہ بن محسن تھے۔حضرت عکاشہ بن محصن کا شمار کبار صحابہ میں ہوتا ہے۔آپ بدر کے موقع پر گھوڑے پر سوار ہو کر شامل ہوئے۔اس دن آپ کی تلوار ٹوٹ گئی۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو ایک لکڑی دی تو وہ آپ کے ہاتھ میں گویا نہایت تیز اور صاف لوہے کی تلوار بن گئی اور آپ اسی سے لڑے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے فتح عطا فرمائی۔پھر اسی تلوار کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تمام غزوات میں شامل ہوئے اور یہ لکڑی کی تلوار وفات تک آپ کے پاس ہی تھی۔اس تلوار کا نام عون تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بشارت دی تھی کہ تم جنت میں بغیر حساب کے داخل ہو گے۔(اسد الغابه جلد 4 صفحه -64-65 عکاشہ بن محصن مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1996ء) غزوہ بدر کے موقع پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ عرب کا بہترین شہسوار ہمارے ساتھ شامل ہے۔صحابہ نے پوچھا یار سول اللہ وہ کون شخص ہے ؟ فرمایا عکاشہ بن محصن۔(سیرت ابن هشام صفحه 435 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2001ء) حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا کہ میری امت سے ایک گروہ جنت میں داخل ہو گا۔وہ ستر ہزار ہوں گے اور ان کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے۔حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عکاشہ بن محصن اپنی چادر اٹھاتے ہوئے کھڑے ہوئے اور عرض کی کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ سے دعا کریں کہ مجھے بھی ان میں سے بنادے۔تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ ! اسے بھی ان میں شامل کر دے۔پھر انصار میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سے دعا کریں کہ مجھے بھی ان میں سے بنا دے۔تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سَبَقَكَ بِهَا عُکاشہ۔کہ عکاشہ اس بارے میں تجھ پر سبقت لے گیا ہے۔(صحیح مسلم کتاب الایمان باب الدليل على دخول طوائف من المسلمين الجنة بغير حساب ولا عذاب حديث 369) اس واقعہ کو بیان کرتے ہوئے اپنی سیرت کی کتاب میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے لکھا ہے کہ