خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 244
خطبات مسرور جلد 16 244 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 25 مئی 2018 معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔(صحیح البخاری کتاب الاحکام باب كيف يبايع الامام الناس حدیث 7199(صحیح مسلم کتاب الامارة باب وجوب طاعة الامراء في غير معرصية۔۔۔الخ حديث:4854) یہ صرف اپنے لئے ہی نہیں آپ نے فرمایا بلکہ آگے خلافت اور نظام کے بارے میں بھی یہی ارشاد ہے۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تنگدستی اور خوشحالی، خوشی اور ناخوشی، حق تلفی اور ترجیحی سلوک چاہے حق تلفی ہو رہی ہے۔ترجیحی سلوک ہو رہا ہے۔امتیاز برتا جارہا ہے غرض ہر حالت میں تیرے لئے حاکم وقت کے حکم کو سننا اور اطاعت کرنا واجب ہے۔(صحیح مسلم کتاب الامارة باب وجوب طاعة الامراء فى غير معصية۔۔۔الخ حديث 4754) اس بات کو اطاعت کے بارے میں بیان کرتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ " اللہ اور اس کے رسول اور ملوک کی اطاعت اختیار کرو۔اطاعت ایک ایسی چیز ہے کہ اگر سچے دل سے اختیار کی جائے تو دل میں ایک نور اور روح میں ایک لذت اور روشنی آتی ہے۔مجاہدات کی اس قدر ضرورت نہیں ہے جس قدر اطاعت کی ضرورت ہے۔مگر ہاں یہ شرط ہے کہ سچی اطاعت ہو اور یہی ایک مشکل امر ہے۔اطاعت میں اپنے ہوائے نفس کو ذبح کر دینا ضروری ہوتا ہے۔بڑوں اس کے اطاعت ہو نہیں سکتی۔اور ہوائے نفس ہی ایک ایسی چیز ہے جو بڑے بڑے موحدوں کے قلب میں بھی بت بن سکتی ہے۔" دل کی جو خواہشات ہیں وہ اگر ہوں تو بت بن جاتے ہیں۔پھر اطاعت کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہو تا۔فرمایا کہ " صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین پر کیسا فضل تھا اور وہ کس قدر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں فنا شدہ قوم تھی۔یہ سچی بات ہے کہ کوئی قوم قوم نہیں کہلا سکتی اور ان میں ملیت اور یگانگت کی روح نہیں پھونکی جاتی جب تک کہ وہ فرمانبرداری کے اصول کو اختیار نہ کرے اور اگر اختلاف رائے اور پھوٹ رہے تو پھر سمجھ لو کہ یہ ادبار اور تنزل کے نشانات ہیں۔" اختلاف رائے ہو گا تو زیادہ پھوٹ پڑی رہے گی۔پھر تنزل ہو گا۔گراوٹ ہوتی چلی جائے گی۔پھر ترقی نہیں ہو گی۔فرمایا کہ " مسلمانوں کے ضعف اور تنزل کے منجملہ دیگر اسباب کے باہم اختلاف اور اندرونی تنازعات بھی ہیں۔پس اگر اختلاف رائے کو چھوڑ دیں اور ایک کی اطاعت کریں جس کی اطاعت کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے پھر جس کام کو چاہتے ہیں وہ ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا ہاتھ جماعت پر ہوتا ہے۔اس میں یہی تو ستر ہے۔اللہ تعالیٰ توحید کو پسند فرماتا ہے اور یہ وحدت قائم نہیں ہو سکتی جب تک اطاعت نہ کی جاوے۔پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں صحابہ بڑے بڑے اہل الرائے تھے۔خدا نے ان کی بناوٹ ایسی ہی رکھی تھی۔وہ اصول سیاست سے بھی خوب واقف تھے کیونکہ آخر جب حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور دیگر صحابہ کرام خلیفہ ہوئے اور ان میں سلطنت آئی تو انہوں نے جس خوبی اور انتظام کے ساتھ سلطنت کے بارِ گراں کو سنبھالا ہے اس سے بخوبی معلوم ہو سکتا ہے کہ ان میں اہل الرائے ہونے کی کیسی قابلیت تھی۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور ان کا یہ حال تھا کہ جہاں آپ نے کچھ فرمایا اپنی تمام راؤں اور دانشوں کو اس کے سامنے حقیر سمجھا۔" ہماری کوئی عقل کی بات نہیں۔" اور جو کچھ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسی کو واجب