خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 245
خطبات مسرور جلد 16 245 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 مئی 2018 العمل قرار دیا۔ان کی اطاعت میں گمشدگی کا یہ عالم تھا کہ آپ کے وضو کے بقیہ پانی میں برکت ڈھونڈھتے تھے اور آپ کے لب مبارک کو متبرک سمجھتے تھے۔اگر ان میں یہ اطاعت، یہ تسلیم کامادہ نہ ہو تا بلکہ ہر ایک اپنی ہی رائے کو مقدم سمجھتا اور پھوٹ پڑ جاتی تو وہ اس قدر مراتب عالیہ کو نہ پاتے۔" فرماتے ہیں کہ "میرے نزدیک شیعہ سنیوں کے جھگڑوں کو چکا دینے کے لئے یہی ایک دلیل کافی ہے کہ صحابہ کرام میں باہم پھوٹ ، ہاں باہم کسی قسم کی پھوٹ اور عداوت نہ تھی کیونکہ ان کی ترقیاں اور کامیابیاں اس امر پر دلالت کر رہی ہیں کہ وہ باہم ایک تھے اور کچھ بھی کسی سے عداوت نہ تھی۔نا سمجھ مخالفوں نے کہا ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا یا گیا۔مگر میں کہتا ہوں یہ صحیح نہیں ہے۔اصل بات یہ ہے کہ دل کی نالیاں اطاعت کے پانی سے لبریز ہو کر بہ نکلی تھیں۔یہ اس اطاعت اور اتحاد کا نتیجہ تھا کہ انہوں نے دوسرے دلوں کو تسخیر کر لیا۔میر اتو یہ مذہب ہے کہ وہ تلوار جو اُن کو اٹھانی پڑی وہ صرف اپنی حفاظت کے لئے تھی ورنہ اگر وہ تلوار نہ بھی اٹھاتے تو یقینا وہ زبان ہی سے دنیا کو فتح کر لیتے۔سخن کز دل بروں آید نشیند لاجرم بر دل" کہ دل سے نکلی ہوئی نصیحت یقیناً دوسروں کے دلوں پر اثر کرتی ہے۔انہوں نے ایک صداقت اور حق کو قبول کیا تھا اور پھر سچے دل سے قبول کیا تھا۔اس میں کوئی تکلف اور نمائش نہ تھی۔ان کا صدق ہی ان کی کامیابیوں کا ذریعہ ٹھہرا۔یہ سچی بات ہے کہ صادق اپنے صدق کی تلوار ہی سے کام لیتا ہے۔آپ " پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم " کی شکل وصورت جس پر خدا پر بھروسہ کرنے کا نور چڑھا ہوا تھا اور جو جلالی اور جمالی رنگوں کو لئے ہوئے تھی اس میں ہی ایک کشش اور قوت تھی کہ وہ بے اختیار دلوں کو کھینچے لیتے تھے اور پھر آپ کی جماعت نے اطاعت الرسول کا وہ نمونہ دکھایا اور اس کی استقامت ایسی فوق الکرامت ثابت ہوئی کہ جو اُن کو دیکھتا تھا وہ بے اختیار ہو کر ان کی طرف چلا آتا تھا۔غرض صحابہ کی سی حالت اور وحدت کی ضرورت اب بھی ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس جماعت کو جو مسیح موعود کے ہاتھ سے تیار ہو رہی ہے اسی جماعت کے ساتھ شامل کیا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیار کی تھی اور چونکہ جماعت کی ترقی ایسے ہی لوگوں کے نمونوں سے ہوتی ہے۔"جو خالصہ اپنی حالت کو اس تعلیم کے مطابق ڈھالیں اور اطاعت میں بھی اعلیٰ معیار دکھائیں۔" اس لئے تم جو مسیح موعود کی جماعت کہلا کر صحابہ کی جماعت سے ملنے کی آرزور کھتے ہو اپنے اندر صحابہ کا رنگ پیدا کرو۔اطاعت ہو تو ویسی ہو۔باہم محبت اور اخوت ہو تو ویسی ہو۔غرض ہر رنگ میں ہر صورت میں تم وہی شکل اختیار کر وجو صحابہ کی تھی۔" ( تفسیر حضرت مسیح موعود جلد 2 صفحہ : 246 248 زیر سورۃ النساء آیت 59) گو یہ بات آپ اپنے صحابہ کو اس وقت بتا رہے ہیں لیکن اگر جماعتی ترقی کو ہمیشہ قائم رکھنا ہے، خلافت کے نظام کے دائمی رہنے کے لئے کوشش کرنی ہے تو پھر جماعت کے اندر وہ نمونے بھی مستقل مزاجی سے قائم رکھنے پڑتے ہیں۔تبھی وہ ترقیات بھی ملیں گی جو پہلے ملتی رہی ہیں۔پس یہ وہ معیار ہیں جو اللہ تعالیٰ کے انعام سے فیض پانے کے لئے ضروری ہیں۔ہمیں اپنی عبادتوں کے