خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 243
خطبات مسرور جلد 16 243 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 25 مئی 2018 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نمازوں کے حق ادا کرنے اور زکوۃ ادا کرنے کے آپس کے تعلق کو خدا تعالیٰ کی تعلیم کے مطابق جوڑتے ہوئے یہ فرماتے ہیں کہ "لوگ اپنی نمازوں میں خشوع خضوع کرتے ہیں تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ طبعاً وہ لغو سے اعراض کرتے ہیں۔" جو نمازیں صحیح طرح پڑھی جائیں گی تو لغو سے اعراض ہو گا" اور اس گندی دنیا سے نجات پا جاتے ہیں اور اس دنیا کی محبت ٹھنڈی ہو کر خدا تعالیٰ" کی محبت ان میں پیدا ہو جاتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ هُم لِلزَّكوة فعِلُون (المؤمنون:5)۔یعنی وہ خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔"جب لغویات سے پر ہیز کیا۔لغویات پہ خرچ نہیں کرنا تو پھر عبادتوں کی طرف توجہ پیدا ہوئی۔اگر مالدار ہیں تو پھر خدا کی راہ میں خرچ کرنے کی طرف ان کو توجہ پیدا ہوتی ہے۔فرمایا اور یہ ایک نتیجہ ہے عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُون (المؤمنون: 4) کا۔" لغو سے اعراض کا۔لغو سے بچنے کا نتیجہ ہے کہ پھر مالی قربانی کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہے۔دوسروں کا احساس ہوتا ہے۔" کیونکہ جب دنیا سے محبت ٹھنڈی ہو جائے گی تو اس کا لازمی نتیجہ ہو گا کہ وہ خدا کی راہ میں خرچ کریں گے اور خواہ قارون کے خزانے بھی ایسے لوگوں کے پاس جمع ہوں وہ پروا نہیں کریں گے اور خدا کی راہ میں دینے سے نہیں جھجھکیں گے۔" آپ فرماتے ہیں کہ ہزاروں آدمی ایسے ہوتے ہیں کہ وہ زکوۃ نہیں دیتے یہاں تک کہ ان کی قوم کے بہت سے غریب اور مفلس آدمی تباہ اور ہلاک ہو جاتے ہیں مگر وہ ان کی پروا بھی نہیں کرتے۔حالانکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہر ایک چیز پر زکوۃ دینے کا حکم ہے یہاں تک کہ زیور پر بھی۔ہاں جواہرات وغیرہ چیزوں پر نہیں۔اور جو امیر ، نواب اور دولتمند لوگ ہوتے ہیں ان کو حکم ہے کہ وہ شرعی احکام کے بموجب اپنے خزانوں کا حساب کر کے زکوۃ دیں نہ کہ نقد روپیہ جو ہے۔اگر وہ ایک حد تک، ایک مدت تک جمع ہو تو اس پر بھی زکوۃ دیں "لیکن وہ نہیں دیتے۔اس لئے خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُون کی حالت تو ان میں تب پید اہو گی جب وہ زکوۃ بھی دیں گے۔"ز کوۃ دیں گے تو لغویات سے بچنے کی کوشش بھی ہو گی۔نمازوں کا خشوع و خضوع حاصل ہو گا۔اگر صحیح نمازیں ہیں تو لغویات سے بچیں گے۔لغویات سے بچیں گے تو مالی قربانی کی طرف توجہ پیدا ہو گی۔آپ نے فرمایا مالی قربانی کرنے والے وہ لوگ ہوں گے جو لغویات سے بچتے ہیں۔ہر چیز کا آپس میں تعلق ہے۔آپ فرماتے ہیں "گویا زکوۃ کا دینا لغو سے اعراض کرنے کا ایک نتیجہ ہے۔" (ملفوظات جلد 10 صفحہ 64) پس نماز توجہ دلاتی ہے لغویات سے پر ہیز کی طرف اور لغویات سے پر ہیز پھر اللہ تعالی کے احکامات کی بجا آوری کی طرف لے جاتا ہے۔اور پھر اس طرف توجہ پیدا ہوتی ہے کہ اپنے مال کو ناجائز چیزوں پر خرچ کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کریں۔پس آپ نے اس سے یہ بھی نتیجہ نکالا کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ کرنا بھی بہت سی لغویات سے انسان کو بچالیتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے خلافت کا انعام پانے والوں کو یہ نصیحت فرمائی کہ وہ اطاعت کے معیاروں کو بھی بلند کریں۔ایک حدیث میں آتا ہے۔یہ حضرت عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت اس نکتہ پر کی کہ سنیں گے اور اطاعت کریں گے خواہ ہمیں پسند ہو یا نا پسند۔اور یہ کہ ہم جہاں کہیں بھی ہوں کسی امر کے حقدار سے جھگڑا نہیں کریں گے۔حق پر قائم رہیں گے یا حق بات ہی کہیں گے اور اللہ تعالیٰ کے