خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 242
خطبات مسرور جلد 16 242 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 25 مئی 2018 اب شرک کی بات ہو رہی ہے۔پھر آپ نے فرمایا۔" توحید صرف اس بات کا نام نہیں کہ منہ سے لا الهَ إلَّا اللہ کہیں اور دل میں ہزاروں بت جمع ہوں۔بلکہ جو شخص اپنے کسی کام اور مکر اور فریب اور تدبیر کو خدا کی سی عظمت دیتا ہے یا کسی انسان پر ایسا بھروسہ رکھتا ہے جو خدا تعالیٰ پر رکھنا چاہئے یا اپنے نفس کو وہ عظمت دیتا ہے جو خدا کو دینی چاہئے۔ان سب صورتوں میں وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک بت پرست ہے۔" یہ اس حدیث کی وضاحت ہے۔" بت صرف وہی نہیں ہیں جو سونے یا چاندی یا پیتل یا پتھر وغیرہ سے بنائے جاتے ہیں اور ان پر بھروسہ کیا جاتا ہے بلکہ ہر ایک چیز یا قول یا فعل جس کو وہ عظمت دی جائے جو خدا تعالیٰ کا حق ہے وہ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں بت ہے۔" ( سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب، روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 349) پس بہت باریکی سے ہمیں اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے۔پھر خلافت کا انعام پانے والوں کے لئے زکوۃ اور مالی قربانی کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔حدیث میں آتا ہے حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دو شخصوں کے سوا کسی پر رشک نہیں کرنا چاہئے۔ایک وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور اس نے اسے راہ حق میں خرچ کر دیا۔دوسرے وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے سمجھ دانائی اور علم و حکمت دی جس کی مدد سے وہ لوگوں کے فیصلے کرتا ہے اور لوگوں کو سکھاتا بھی ہے۔(صحيح البخارى كتاب العلم باب الاغتباط فى العلم والحكمة حديث 73) پھر حضرت حسن بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے اموال کو ز کوۃ ادا کر کے محفوظ کر لو اور اپنے بیماروں کا علاج صدقات کے ذریعہ بھی کرو۔(الجامع لشعب الایمان جلد 5 صفحہ 185 حديث 3280 مطبوعه مكتبة الرشد ناشرون رياض2003ء) یعنی زکوۃ اور صدقات، ہر چیز کی مالی قربانی اس طرف توجہ دلا دی۔پس زکوۃ جن پر واجب ہے وہ تو زکوۃ دیں گے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ہر ایک پر واجب بھی نہیں۔لیکن جن پر واجب نہیں انہیں بھی یہاں نصیحت فرمائی کہ صدقات کی طرف توجہ کرو اور ضرور تمندوں اور غریبوں کا خیال رکھو۔پس اس میں جہاں ضرورتمندوں کی ضرورت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے، جو ضروری چیز ہے ، وہاں وحدت پیدا کرنے کی طرف بھی توجہ ہے۔کیونکہ زکوۃ اور اموال کا خرچ خلافت کے تابع ہی بہترین رنگ میں ہو سکتا ہے۔جماعت کا نظام بھی ہے جس کے پاس ضرورتمندوں کے کوائف بہتر رنگ میں میسر ہوتے ہیں اور ہو سکتے ہیں۔اور جو جماعتیں ہیں ان کو چاہئے کہ اس کا جائزہ لے کے میسر کریں۔عموماً تو ایسے لوگوں کی فہرستیں آتی ہیں۔پھر خلیفہ وقت کے پاس مختلف جگہوں کی معلومات ہیں جو مختلف لوگوں کی طرف سے آجاتی ہیں۔بعض لوگوں کی اپنی طرف سے بھی آجاتی ہیں ان کے مطابق وہ خود بھی وہاں خرچ کرنے کے لئے نظام کو کہتا ہے کہ ہاں خرچ کر و۔یہی وجہ ہے کہ افریقہ میں بھی اور دوسرے ممالک میں بھی جماعت وہاں کے لوگوں کو جس حد تک ہو سکتا ہے اپنے وسائل کے مطابق سہولت پہنچانے کی، مدد کرنے کی کوشش کرتی ہے۔علاج کی سہولتیں بھی دی جاتی ہیں۔تعلیم کی سہولتیں بھی دی جاتی ہیں۔دوسری خوراک وغیرہ کے لئے بھی۔اور اکثر احمدیوں کو میں نے دیکھا ہے بڑے درد کے ساتھ اپنے غریب بھائیوں کی مدد کے لئے مالی قربانی کرتے بھی ہیں اور اسی ذریعہ سے پھر ایک وحدت بھی پیدا ہوتی ہے۔