خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 16 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 16

خطبات مسرور جلد 16 " 16 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 12 جنوری 2018 ( ملفوظات جلد 5 صفحہ: 42) کی خاطر جان دینے کو تیار ہو جاتا ہے۔پھر صحابہ کی فضیلت بیان فرماتے ہوئے ایک موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ: رِجَالٌ لَّا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللهِ- (النور:38)۔" قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جنہیں نہ کوئی تجارت اور نہ کوئی خرید و فروخت اللہ کے ذکر سے غافل کرتی۔آپ کی اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ " یہ ایک ہی آیت صحابہ کے حق میں کافی ہے کہ انہوں نے بڑی بڑی تبدیلیاں کی تھیں اور انگریز بھی اس کے معترف ہیں کہ ان کی کہیں نظیر ملنا مشکل ہے۔بادیہ نشیں لوگ اور اتنی بہادری اور جرآت۔( ملفوظات جلد 5 صفحہ : 304) تعجب آتا ہے۔" فرماتے ہیں کہ " وہ ایسے مرد ہیں کہ ان کو یاد الہی سے نہ تجارت روک سکتی ہے اور نہ بیچ مانع ہوتی ہے یعنی محبت الہیہ میں ایسا کمال تام رکھتے ہیں کہ دنیوی مشغولیاں گو کیسی ہی کثرت سے پیش آویں ان کے حال میں خلل ( براہین احمدیہ ، جلد اول صفحه : 617 حاشیه در حاشیہ نمبر (3) انداز نہیں ہو سکتیں۔" پھر آپ فرماتے ہیں کہ " یاد رکھو کہ کامل بندے اللہ تعالیٰ کے وہی ہوتے ہیں جن کی نسبت فرمایا ہے رِجَالٌ لَّا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَن ذِكْرِ الله (النور: 38) جب دل خد اتعالیٰ کے ساتھ سچا تعلق اور عشق پیدا کر لیتا ہے تو وہ اس سے الگ ہوتا ہی نہیں۔اس کی ایک کیفیت اس طریق پر سمجھ میں آسکتی ہے کہ جیسے کسی کا بچہ بیمار ہو تو خواہ وہ کہیں جاوے، کسی کام میں مصروف ہو مگر اس کا دل اور دھیان اسی بچہ میں رہے گا۔اسی طرح پر جو لوگ خدا تعالیٰ کے ساتھ سچا تعلق اور محبت پیدا کرتے ہیں وہ کسی حال میں بھی خدا تعالیٰ کو فراموش نہیں کرتے۔" ( ملفوظات جلد 7 صفحہ 21-20) پس صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے وہ سچا تعلق اور عشق خدا تعالیٰ سے پیدا کر لیا تھا کہ سوال ہی نہیں تھا کہ وہ کسی طرح بھی خدا تعالیٰ سے غافل ہوں یا کسی بھی قربانی سے وہ دریغ کرنے والے ہوں۔صحابہ کی بہت سی مثالیں ہیں۔حضرت خباب بن الا کرت کے بارے میں آتا ہے جب ان کی وفات کا وقت قریب آیا تو اللہ تعالیٰ کا اتنا خوف اور خشیت تھی کہ انہوں نے اپنا کفن دیکھنے کے لئے منگوایا اور دیکھا تو وہ ایک عمدہ کپڑے کا کفن تھا۔اپنے عزیزوں سے کہا کہ اتنا عمدہ کفن مجھے دو گے ؟ اور رو پڑے اور کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت حمزہ کو ایک چادر کفن کے لئے میسر ہوئی تھی اور وہ بھی اتنی چھوٹی کہ پاؤں ڈھانکتے تو سر ننگا ہو جاتا تھا سر ڈھانپتے تو پاؤں ننگے ہو جاتے تھے۔تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت پر پاؤں کو گھاس سے ڈھانپ دیا گیا۔پھر انتہائی خشیت سے کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک دینار یا درہم کا بھی میں مالک نہیں تھا اور آج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض کی برکت سے اللہ تعالیٰ کے انعامات کی وجہ سے، ان قربانیوں کو قبول کرنے کی وجہ سے مجھے اللہ تعالیٰ نے اتنی دولت دی ہے کہ میرے گھر کے کونے میں جو صندوق پڑا ہے اس میں ہی چالیس ہزار درہم پڑے ہوئے ہیں۔کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے اتنادیا ہے کہ مجھے ڈر ہے کہ کہیں اللہ تعالیٰ نے ہمارے اعمال کی جزا اس دنیا میں