خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 239
239 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 مئی 2018 خطبات مسرور جلد 16 کے فرضوں میں کچھ کمی ہوئی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا دیکھو میرے بندے کے کچھ نوافل بھی ہیں۔اگر نوافل ہوئے تو فرضوں کی کمی ان نوافل کے ذریعہ سے پوری کر دی جائے گی۔اسی طرح اس کے باقی اعمال کا معائنہ ہو گا اور اس کا جائزہ لیا جائے گا۔(سنن الترمذی کتاب الصلاة باب ما جاء ان اوّل ما يحاسب به العبد۔۔الخ حديث 413) پس یہ اہمیت ہے نمازوں کی۔آجکل رمضان کی وجہ سے سب کی نمازوں کی طرف اور مسجدوں کی طرف بڑی توجہ ہے۔لیکن یہ رمضان کے مہینے کی بات نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ صرف رمضان کے مہینہ کی نمازوں کے بارے میں نہیں پوچھے گا بلکہ تمام زندگی کی نمازوں کا حساب ہو گا۔پس یہ بڑے فکر کا مقام ہے۔اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر بے انتہا مہر بانی ہے کہ فرمایا کہ فرضوں میں جو کمی ہو جاتی ہے ، بشری کمزوری کی وجہ سے انسانی طبیعت میں بھی اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں بعض دفعہ حق ادا نہیں کر سکتا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ پھر نفلوں کے ذریعہ سے جو زندگی میں ادا کئے گئے ہوں گے ان سے یہ فرضوں کی کمی پوری کرو۔پھر ایک روایت میں ہے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ نماز کو چھوڑنا انسان کو شرک اور کفر کے قریب کر دیتا ہے۔(صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان اطلاق اسم الكفر على من ترك الصلوة حديث 246) پس یہ بہت خوف کا مقام ہے۔شرک ایسا جرم ہے جو اللہ تعالیٰ کو انتہائی ناپسند ہے۔شرک اللہ تعالیٰ معاف نہیں کرتا۔کیا ہم ایسے جرم کے مرتکب ہو کر اللہ تعالیٰ کے انعام خلافت سے فیضیاب ہو سکتے ہیں۔ہر گز نہیں۔نماز کیسی ہونی چاہئے؟ اس کی حقیقت اور روح کے معیار کیا ہیں ؟ اس بات کو بیان فرماتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ " بعض لوگ مسجدوں میں بھی جاتے ہیں۔نمازیں بھی پڑھتے ہیں اور دوسرے ارکان اسلام بھی بجالاتے ہیں مگر خدا تعالیٰ کی نصرت اور مدد ان کے شامل حال نہیں ہوتی اور ان کے اخلاق اور عادات میں کوئی نمایاں تبدیلی دکھائی نہیں دیتی۔" نمازیں پڑھنے والوں کے عادات و اخلاق میں بھی ایک نمایاں تبدیلی نظر آنی چاہئے۔" جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی عبادتیں بھی رسمی عبادتیں ہیں۔حقیقت کچھ بھی نہیں۔کیونکہ احکام الہی کا بجالانا تو ایک بیج کی طرح ہوتا ہے جس کا اثر روح اور وجود دونو پر پڑتا ہے۔" بیج ہے تو اس کا روح پر بھی اثر ہونا چاہئے۔جس طرح پودے لگاؤ تو پو دا گتا ہے، نشو و نما پاتا ہے ، نظر آتا ہے۔اسی طرح ہماری روح پر بھی اور ہمارے جسم پر بھی اور ظاہری اخلاق پر بھی نمازوں کا اثر نظر آنا چاہئے۔فرمایا کہ ایک شخص جو کھیت کی آبپاشی کرتا اور بڑی محنت سے اس میں بیج بوتا ہے اگر ایک دوماہ تک اس میں انگوری نہ نکلے تو ماننا پڑتا ہے کہ بیج خراب ہے۔" یعنی کہ انگوری سے مطلب ہے کہ بیج اگر Germinate نہ کرے۔نہ اُگے ، باہر نہ نکلے، دانے سے باہر shoot نہ کرے۔میں نے انگوری کی یہ وضاحت اس لئے کر دی کہ بعض ترجمہ کرنے والے بعد میں آکر پوچھتے ہیں کہ آپ نے بعض الفاظ استعمال کئے جن کا ہمیں پتہ نہیں تھا۔" یہی حال عبادات کا ہے۔اگر ایک شخص خدا کو وحدہ لاشریک سمجھتا ہے ، نمازیں پڑھتا ہے ، روزے رکھتا ہے اور بظاہر نظر احکام الہی کو حتی الوسع بجالاتا ہے لیکن خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی خاص مدد اس کے شامل حال نہیں ہوتی تو ماننا پڑتا ہے کہ جو بیچ وہ بو رہا ہے وہی