خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 238 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 238

خطبات مسرور جلد 16 238 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 مئی 2018 خدا تعالیٰ کی ہستی کے بین ثبوت ہزاروں نشانوں سے دیئے جاتے ہیں اور ایسا ہوتا ہے کہ کھویا ہوا عرفان اور گمشدہ تقویٰ طہارت دنیا میں قائم کی جاتی ہے۔پس مسلمانوں میں بھی اور غیر مسلموں میں بھی ایمان کھویا ہوا ہے۔تقویٰ کھویا ہوا ہے۔اس لئے اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق خاتم الخلفاء کو بھیجا اور آپ نے اسے قائم کیا۔آپ فرماتے ہیں اور ایک عظیم الشان انقلاب واقع ہوتا ہے۔غرض اسی سنت قدیمہ کے مطابق۔یہ غور سے سننے والی بات ہے۔آپ نے فرمایا اسی سنت قدیمہ کے مطابق ہمارا یہ سلسلہ قائم ہوا ہے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 10 صفحہ 274-275) پس جماعت احمدیہ کا قیام بھی اس لئے ہوا ہے کہ خدا تعالیٰ کی ہستی کے بین ثبوت پیش کئے جائیں۔توحید کو دوبارہ قائم کیا جائے۔اخلاق فاضلہ کو نئے سرے سے قائم کیا جائے۔جیسے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں کی اکثریت کی عملی حالت کمزور ہے۔قبروں کی پوجا، شرک اور بدعات میں یہ لوگ مبتلا ہیں۔فسق و فجور عام ہے اور خود اس بات کو یہ مانتے ہیں۔اس پر اخباروں میں کالم لکھے جاتے ہیں لیکن جیسا کہ میں نے کہا جسے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں ہدایت دینے اور ضلالت کے گڑھے سے نکالنے کے لئے بھیجا ہے اسے یہ ماننے کو تیار نہیں۔مخفی شرک میں یہ مبتلا ہیں اور اخلاق فاضلہ کا نام و نشان ہی نہیں ہے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا آخری فقرہ جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا کہ ہمیں ہر وقت ہوشیار رکھنے والا ہونا چاہئے کہ اس سنت قدیمہ کے مطابق ہمارا یہ سلسلہ قائم ہوا ہے کہ جب دنیا میں ہر طرف فسق و فجور اور فساد پھیل جاتا ہے، اخلاق کا خاتمہ ہو جاتا ہے، لوگ توحید کو بھول جاتے ہیں، شرک پھیلنا شروع ہو جاتا ہے تو اس وقت پھر اللہ تعالیٰ اپنے کسی پیارے کو بھیجتا ہے۔اور پھر نئے سرے سے تجدید دین ہوتی ہے۔پس اگر ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مان کر اپنے اندر یہ تبدیلیاں نہیں پیدا کر رہے تو پھر بڑی قابل فکر بات ہے۔ہمیں ہر وقت اپنا جائزہ لیتے رہنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے خلافت کے ساتھ وابستہ انعامات کے حصول کے لئے جن باتوں اور جن کاموں کے کرنے کی نصیحت فرمائی ہے اس کے مطابق ہم اپنی زندگیوں کو ڈھالنے کی کوشش کر رہے ہیں یا نہیں ؟ ان کے معیار کیا ہیں ؟ ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ہماری عبادتیں کیسی ہیں ؟ ہماری نمازوں کے قیام کیسے ہیں ؟ ہمارا ہر قول و عمل شرک سے پاک ہے یا نہیں ؟ ہماری مالی قربانیوں کے معیار کیا ہیں ؟ ہماری اطاعت کے معیار کس درجہ کے ہیں؟ کیا اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح چاہتے ہیں ہم ان معیاروں کو حاصل کرنے والے ہیں یا نہیں ؟ اور پھر اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جس معیار پر اپنے سلسلہ کے ماننے والوں کو دیکھنا چاہتے ہیں ہم اس تک پہنچنے کی کو شش کر رہے ہیں یا نہیں ؟ عبادتوں اور نمازوں کی اہمیت کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ارشاد ہے۔حدیث میں آتا ہے۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن سب سے پہلے جس چیز کا بندوں سے حساب لیا جائے گا وہ نماز ہے۔اگر یہ حساب ٹھیک رہا تو وہ کامیاب ہو گیا اور اس نے نجات پالی۔اور اگر یہ حساب خراب ہوا تو وہ ناکام ہو گیا اور گھاٹے میں رہا۔فرمایا کہ اگر اس