خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 240 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 240

خطبات مسرور جلد 16 خراب ہے۔" 240 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 مئی 2018 ( ملفوظات جلد 10 صفحہ 43) پس یہ وہ نکتہ ہے جسے ہمیں ہمیشہ سامنے رکھنا چاہئے کہ اپنی عبادات اور اپنے اخلاق و اطوار کی بہتری کے معیار سے اللہ تعالیٰ کے قرب کو پہچانیں۔اگر ہمارے معیار بہتر ہوئے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ نمازیں ہمیں فائدہ دے رہی ہیں۔اللہ تعالیٰ کے ہم قریب ہو رہے ہیں۔اگر ہماری ظاہری حالتیں نہیں بدل رہیں تو پھر اللہ تعالیٰ کا قرب بھی حاصل نہیں ہو رہا اور نمازیں بھی کوئی فائدہ نہیں دے رہیں۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارے میں مزید فرماتے ہیں کہ " نماز کیا چیز ہے وہ دعا ہے جو تسبیح، تحمید، تقدیس اور استغفار اور درود کے ساتھ تفرع سے مانگی جاتی ہے۔سو جب تم نماز پڑھو تو بے خبر لوگوں کی طرح اپنی دعاؤں میں صرف عربی الفاظ کے پابند نہ رہو۔" یعنی عربی تمہاری زبان نہیں ہے۔اس لئے جو عربی نہیں جانتے وہ صرف اسی پر پابند نہ رہیں کیونکہ اس وجہ سے پھر دل کی وہ کیفیت پیدا نہیں ہوتی جو دعا کرنے والے کے دل میں ہونی چاہئے۔فرماتے ہیں کہ " کیونکہ ان کی نماز اور ان کا استغفار سب رسمیں ہیں جن کے ساتھ کوئی حقیقت نہیں۔لیکن تم جب نماز پڑھو تو بجز قرآن کے جو خدا کا کلام ہے اور بجز بعض ادعیہ ماثورہ کے کہ وہ رسول کا کلام ہے " بعض دعائیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہیں ، اور بعض قرآن کریم کی دعائیں ہیں ان کو پڑھنا بھی چاہئے اور ان کو سمجھنا بھی چاہئے۔ان کے معنی بھی یاد کرنے چاہئیں تاکہ ان کی روح کا بھی پتہ لگے۔باقی جو دعائیں ہیں، بعض لوگوں نے اپنی دعائیں بنائی ہوئی ہیں یا دوسری دعائیں یاد کر لیتے ہیں فرمایا کہ " باقی اپنی تمام عام دعاؤں میں اپنی زبان میں ہی الفاظ متضر عانہ ادا کر لیا کروتا ہو کہ تمہارے دلوں پر اس عجز و نیاز کا کچھ اثر ہو۔" (کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 68-69) پھر آپ فرماتے ہیں کہ " نماز ایسی شئے ہے کہ اس کے ذریعہ سے آسمان انسان پر جھک پڑتا ہے۔" آسمان انسان پر جھک پڑتا ہے کہ اللہ تعالیٰ قریب آجاتا ہے۔"نماز کا حق ادا کرنے والا یہ خیال کرتا ہے کہ میں مر گیا اور اس کی روح گداز ہو کر خدا کے آستانہ پر گر پڑی ہے۔" فرماتے ہیں کہ "جس گھر میں اس قسم کی نماز ہو گی وہ گھر کبھی تباہ نہ ہو گا۔حدیث شریف میں ہے کہ اگر نوح کے وقت میں یہ نماز ہوتی تو وہ قوم کبھی تباہ نہ ہوتی۔" آپ فرماتے ہیں کہ " حج بھی انسان کے لئے مشروط ہے۔" بعض شرائط ہیں اس کے ساتھ حج ادا کیا جاتا ہے۔ہر ایک پر فرض نہیں ہے۔"روزہ بھی مشروط ہے۔" یہ بھی بیمار پر، مسافر پر فرض نہیں۔یا مسافر تو بعد میں رکھ سکتا ہے لیکن بیمار بعض دفعہ مستقل نہیں رکھتے۔بعض شر طیں ہیں۔روزہ بھی مشروط ہے۔"از کوۃ بھی مشروط ہے۔جن کے پاس مال ہے انہوں نے زکوۃ دینی ہے۔"مگر نماز مشروط نہیں۔سب ایک سال میں ایک ایک دفعہ ہیں۔" باقی عباد تیں جو فرض ہیں وہ بھی سال میں ایک دفعہ ہیں۔" مگر اس "نماز" کا حکم ہر روز پانچ دفعہ ادا کرنے کا ہے۔اس لئے جب تک پوری پوری نماز نہ ہو گی تو وہ برکات بھی نہ ہوں گی جو اس سے حاصل ہوتی ہیں اور نہ اس بیعت کا کچھ فائدہ حاصل ہو گا۔" ( ملفوظات جلد 6 صفحہ 421-422) آپ فرماتے ہیں جب تک پوری پوری نماز نہ ہو گی وہ برکات بھی نہ ہوں گی جو اس سے حاصل