خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 237
خطبات مسرور جلد 16 237 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 25 مئی 2018 بنائی گئی ہیں ان کو بھی تالے لگا کر ، بند کر کے اور پھر باقاعدہ حملہ کر کے نقصان پہنچا کر ان کے تقدس کو بھی پامال کرتے ہیں۔یہ نتیجہ ہے ان کے اپنے ذاتی مقاصد کو دین پر ترجیح دینے کا۔اور جب تک یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق قائم ہونے والی خلافت کو نہیں مانیں گے یہ ایسی حرکتیں کرتے رہیں گے اور ان سے کسی بھی قسم کی اچھائی کی توقع رکھی ہی نہیں جاسکتی۔ہاں چند ایک شریف لوگ بھی ہوتے ہیں۔سینیٹ میں ایک خاتون نے بڑی ہمت سے اس پر کل اظہار تشویش بھی کیا اور اسے رڈ بھی کیا۔اب دیکھیں اس بیچاری کا مولوی اور مولوی طبع لوگ جو ہیں اور مفاد پرست سیاستدان جو ہیں وہ کیا حشر کرتے ہیں۔ابھی تک تو یہی دیکھنے میں آیا ہے کہ پھر وہ اس حد تک ایسے شریف لوگوں کے پیچھے پڑتے ہیں کہ ان کو یا تو سیاست سے الگ ہونا پڑتا ہے یا معافی مانگنی پڑتی ہے۔جہاں تک ہمارے جذبات کا تعلق ہے کہ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے کی ایک یاد گار کو نقصان پہنچایا اور حکومت نے اسے اپنے قبضے میں لیا ہوا ہے تو ہمارا تو ہمیشہ کی طرح یہی جواب ہے اور ہونا چاہئے کہ اثْمَا اَشْكُوا بَى وَحُزْنِي الى الله (یوسف: 87) کہ میں تو اپنے رنج اور غم کی فریاد کو اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کرتا ہوں۔بیشک اس کے ساتھ ہمارا جذباتی تعلق بھی ہو لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے اعلیٰ تعلق کا اظہار صرف عمارتوں کی حفاظت سے نہیں بلکہ آپ کی تعلیم پر عمل کرنے سے ہے۔آپ کے بعد نظام خلافت کے ساتھ جڑنے سے ہے۔ان چیزوں کے حصول سے ہے جو اللہ تعالیٰ نے خلافت کے انعام سے فائدہ اٹھانے کے لئے بتائی ہیں۔اپنی عبادتوں کے معیار بہتر کرنے سے ہے۔اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرنے سے ہے۔اپنی اطاعت کے معیاروں کو بڑھانے سے ہے۔پس اس کے لئے ہمیں کوشش کرنی چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کسی نے سوال کیا کہ خلیفہ کے آنے کا مدعا کیا ہوتا ہے ؟ مقصد کیا ہوتا ہے ؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو جواب دیاوہ ہمارے سامنے ہر وقت رہنا چاہئے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ اصلاح۔یہ مقصد ہے۔اور پھر وضاحت بھی فرمائی کہ دیکھو حضرت آدم سے اس نسل انسانی کا سلسلہ شروع ہوا اور ایک مدت دراز کے بعد جب انسان کی عملی حالتیں کمزور ہو گئیں اور انسان زندگی کے اصل مدعا اور خدا کی کتاب کی اصل غایت بھول کر ہدایت کی راہ سے دور جا پڑے تو پھر اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے ایک مامور اور مرسل کے ذریعہ سے دنیا کو ہدایت کی۔اور ضلالت کے گڑھے سے نکالا۔آپ فرماتے ہیں کہ شان کبریائی نے جلوہ دکھایا اور ایک شمع کی طرح نور معرفت دنیا میں دوبارہ قائم کیا گیا۔ایمان کو نورانی اور روشنی والا ایمان بنا دیا۔فرماتے ہیں کہ غرض اللہ تعالیٰ کی ہمیشہ سے یہی سنت چلی آتی ہے۔حضرت آدم سے لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک یہی ہم نے دیکھا۔پھر فرمایا کہ غرض اللہ تعالیٰ کی یہی سنت چلی آتی ہے کہ ایک زمانہ گزرنے پر جب پہلے نبی کی تعلیم کو لوگ بھول کر راہ راست اور متاع ایمان اور نور معرفت کو کھو بیٹھتے ہیں اور دنیا میں ظلمت اور گمراہی، فسق و فجور کا چاروں طرف سے خطر ناک اندھیرا چھا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی صفات جوش مارتی ہیں اور ایک بڑے عظیم الشان انسان کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کا نام اور توحید اور اخلاق فاضلہ پھر نئے سرے سے دنیا میں اس کی معرفت قائم کر کے