خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 236 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 236

خطبات مسرور جلد 16 236 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 مئی 2018 کی تمکنت کا ذریعہ بنیں گے ؟ کیا یہ لوگ صحیح رہنمائی کریں گے ؟ یہ ہر گز نہیں ہو سکتا۔کیونکہ یہ لوگ تو خود بگڑے ہوئے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کے مطابق بگڑے ہوئے ہیں کہ اُس زمانے کے علماء بدترین مخلوق ہوں گے۔(الجامع لشعب الايمان جلد 3 صفحه 317-318 حديث 1763 مطبوعه مكتبة الرشد ناشرون رياض 2003ء) زکوۃ دیتے ہیں تو اس کے استعمال کا بھی حکومت کو پتہ نہیں لگتا۔وہ یہ دعویٰ تو کرتی ہے کہ غریبوں پر ہم خرچ کر رہے ہیں لیکن زکوۃ فنڈ میں اربوں کے غبن ہوتے ہیں جس کی خبریں میڈیا پر آتی ہیں۔اشاعت اسلام کا تو سوال بھی نہیں پیدا ہو تا۔اسلام کے نام پر قائم حکومتیں، تیل کی دولت سے مالا مال حکومتیں کیا کر رہی ہیں۔کوئی بھی اشاعت اسلام کا کام ان سے نہیں ہو رہا ہے۔یہ کام بھی قربانیاں کر کے اگر کوئی کر رہا ہے تو جماعت احمد یہ کر رہی ہے۔یہ نظام بھی اسی وقت چل سکتا ہے جب خلافت کا نظام ہو۔بعض علماء اور سنجیدہ طبقہ اس بات کا اظہار تو کرتے ہیں کہ خلافت کا نظام ہونا چاہئے لیکن جب کہو کہ اللہ تعالیٰ نے جو نظام قائم کیا ہے اسے مانو تو ماننے کے لئے تیار نہیں بلکہ مخالفت میں بڑھے ہوئے ہیں۔اس مخالفت کا تازہ واقعہ دو دن ہوئے سیالکوٹ میں ہماری مسجد میں ہوا۔مسجد اور اس کے ساتھ جو گھر تھا۔پولیس اور انتظامیہ دونوں نے مل کر بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ ان کی سر کردگی میں مولویوں نے اور ان کے چند سو چیلوں نے دھاوا بولا، حملہ کیا۔بہت بڑا کارنامہ انہوں نے انجام دیا۔انہوں نے اسلام کو بچانے کے لئے بڑا شب خون مارا۔اس گھر کو جس کو چند دن پہلے پولیس خود ہی بلا وجہ سیل (seal) کر چکی تھی، اس کا کوئی جواز نہیں تھا۔اور وہاں تھا بھی کوئی نہیں۔پھر بھی اس سیل (seal) ہوئے ہوئے گھر کو پولیس نے باقاعدہ انتظام کے تحت حملہ کر کے نقصان پہنچایا، اندر سے توڑ پھوڑ کی۔یہ پاکستان بننے سے بھی ایک لمبا عرصہ بلکہ سو سال سے بھی زیادہ عرصہ پہلے بنے ہوئے گھر اور مسجد تھے۔اور کوئی جواز نہیں بنتا تھا کہ احمدیوں نے آج بنایا ہے تو ہم نے منارے گرانے ہیں، گنبد گرانے ہیں۔پس یہ ان کا حال ہے جو مخالفت میں بڑھے ہوئے ہیں۔اب یہ بھی اعلان کر رہے ہیں کہ ہم اور مسجدوں کو بھی نقصان پہنچائیں گے اور گرائیں گے۔حافظ ہیں، ایک سیاسی پارٹی کے کوئی صاحب قاری ہیں۔کہنے کو تو حافظ ہیں لیکن قرآن کریم کی تعلیم کی روح سے بالکل ہی خالی ہیں۔خالی تو بہر حال انہوں نے ہونا تھا اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے خاتم الخلفاء اور اس زمانے کے حکم اور عدل کی دشمنی میں بڑھے ہوئے ہیں تو پھر قرآن کریم کے علم سے بھی خالی ہو جاتے ہیں۔ظاہری الفاظ تو رٹے ہوں گے۔قرآن کریم کی تعلیم کو سمجھنے کے لئے ان کے ذہنوں کو تالے لگے ہوئے ہیں اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی ایک سزا ہے کہ یہ سمجھ نہیں سکتے۔ہاں فتنہ وفساد کا جہاں تک سوال ہے اس میں ان کے ذہن جو ہیں بہت رسا ہیں۔بہت کھلے ہوئے ہیں۔جتنا چاہیں ان سے فتنہ وفساد کروالیں۔اس کے لئے نئے نئے طریقے ایجاد کر لیں گے۔ان چیزوں میں ہم بہر حال ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔بہر حال یہ تو ان کا حال ہے۔اپنی مسجدوں میں بھی ایک دوسرے کے خلاف بولتے ہیں اور فتنوں اور فسادوں کی منصوبہ بندیاں کر کے اپنی مسجدوں کے تقدس بھی پامال کرتے ہیں۔اور ہماری مساجد میں بھی جو خالصہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے