خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 235
خطبات مسرور جلد 16 235 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 25 مئی 2018 آخری زمانہ میں خلافت علی منہاج النبوة: قرآن کریم سے بھی ہمیں واضح ہوتا ہے کہ آخری زمانے میں خلافت علی منہاج نبوت قائم ہو گی۔احادیث سے بھی ہمیں پتہ چلتا ہے کہ خلافت علی منہاج نبوت قائم ہو گی اور یہ دائمی خلافت ہے۔اور ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی بڑی کھول کر وضاحت فرمائی کہ میرے بعد خلافت ہو گی اور ہمیشہ رہے گی۔لیکن ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں مسلمانوں کو یہ بھی واضح فرما دیا کہ خلافت کے وعدہ سے فیض اٹھانے کے لئے، اس کے انعام سے حصہ لینے کے لئے اپنی حالتوں کو بدلنا ہو گا۔صرف مسلمان کہلانا، صرف ظاہری ایمان کا اظہار کرنا خلافت کے ایمان کا حقدار نہیں بنادے گا۔پس اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو یہ نصیحت فرماتا ہے کہ عبادت کا حق ادا کرنے کے لئے، شرک سے بچنے کے لئے نمازوں کو قائم کرو۔زکوۃ ادا کرو رسول کی اطاعت کرو تبھی تم اللہ تعالیٰ کے رحم کو حاصل کر سکتے ہو۔اطاعت رسول میں یہ بات بھی یادر کھنی چاہئے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمائی کہ جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی اور جو خلافت کا نظام ہے اس میں سب سے بڑھ کر جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقرر کر دہ امیر ہے وہ خلیفہ ہی ہے۔پس اس بات سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ خلافت کی اطاعت بھی اسی طرح ضروری ہے جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی۔لیکن یہاں وہ خلافت نہیں جو زبر دستی چھین کر دنیاوی آقاؤں کی مدد سے حاصل کی جاتی ہے۔یہاں وہ خلافت مراد ہے جو منہاج نبوت پر قائم ہو اور جس کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم واضح ارشاد فرما چکے ہیں اور جو مسیح موعود کے آنے کے بعد قائم ہونی تھی۔ان سے خلافت کا یہ سلسلہ چلنا تھا کیونکہ وہ مسیح موعود خاتم الخلفاء ہو گا۔اور اس خلافت نے پھر جنگ نہیں کرنی، ظلم نہیں کرنا بلکہ اس طرف توجہ دلانی ہے کہ نمازوں کا قیام کرو۔اس طرف توجہ دلانی ہے کہ دین کی اشاعت کے لئے اور حقوق العباد کی ادائیگی کے لئے زکوة دواور مالی قربانی کی طرف توجہ کرو۔پس یہ نظام بھی اس وقت صرف جماعت احمدیہ میں رائج ہے۔اسی طرح اطاعت رسول کا ایک مقصد جو وحدت کی لڑی میں پرویا جانا ہے وہ بھی خلافت کے بغیر نہیں ہو سکتا۔دوسرے مسلمان بیشک نمازیں بھی پڑھتے ہیں لیکن ایک وحدت نہ ہونے کی وجہ سے ان کے دل میں پھوٹ ہے۔ایک ہی مسلک ہونے کے باوجود جزئیات میں پڑ کر تفرقہ پیدا کیا ہوا ہے۔علماء اپنے منبروں کے لئے اور اپنے مقاصد کے لئے ، اب تو پاکستان میں علماء کے سیاسی مقاصد بھی ہو گئے ہیں ایک دوسرے سے لڑتے رہتے ہیں۔یہی حال پھر ان کے پیچھے چلنے والوں کا ہے۔کچھ عرصہ ہوا جب پاکستان میں دھرنے وغیرہ ہو رہے تھے، حکومت کے خلاف احتجاج ہو رہے تھے۔تو اس کے بعد پھر علماء کے دو گروپوں کی آپس میں بھی ٹھن گئی۔کوئی لبیک یار سول اللہ کے نام پر اپنے ذاتی مقاصد حاصل کرنے اور لیڈر بننے کی کوشش کر رہا تھا تو کوئی ختم نبوت کے نام پر اپنی دکان چمکانے کی کوشش کر رہا تھا اور ٹی وی پر یہ تم اشاد نیا دیکھ رہی تھی۔پاکستان کے ٹی وی نے دکھایا۔اس کے باوجود پھر بھی وہ لوگ جو اُن کے پیچھے چلتے ہیں ان کو سمجھ نہیں آتی کہ وہ کن لوگوں کے پیچھے چل رہے ہیں۔کیا یہ لوگ عوام الناس کے لئے ، عامتہ المسلمین کے لئے دین