خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 234
خطبات مسرور جلد 16 234 21 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 25 مئی 2018 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 25 مئی 2018ء بمطابق 25 ہجرت 1397 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یوکے تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس آیت کی تلاوت فرمائی: وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَطَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ آمَنَّا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَسِقُوْنَ وَآقِيْمُوا الصَّلوةَ وَاتُوا الزكوة وَاطِيعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ (النور:56-57) ان آیات کا ترجمہ ہے کہ تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال بجالائے اُن سے اللہ نے پختہ وعدہ کیا ہے کہ انہیں ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا جیسا کہ اس نے ان سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا۔اور ان کے لئے ان کے دین کو جو اس نے ان کے لئے پسند کیا ضرور تمکنت عطا کرے گا۔اور ان کی خوف کی حالت کے بعد ضرور انہیں امن کی حالت میں بدل دے گا۔وہ میری عبادت کریں گے۔میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔اور جو اس کے بعد بھی ناشکری کرے تو یہی وہ لوگ ہیں جو نا فرمان ہیں۔اور نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو اور رسول کی اطاعت کرو تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔ان آیات میں اللہ تعالیٰ کے ایک وعدے کے بارے میں بیان ہوا ہے۔واضح ہو کہ اللہ تعالیٰ نے ایک وعدہ فرمایا ہے کہ اگر اس اس طرح ہو تو اللہ تعالیٰ تمہیں انعام سے نوازے گا۔اور وہ خلافت کا انعام ہے۔جس کے نتیجہ میں تمہیں تمکنت بھی حاصل ہو گی اور خوف کی حالتوں کے بعد امن کی حالت بھی ملے گی۔پس یہ وعدہ ہے، پیشگوئی نہیں کہ ضرور اللہ تعالیٰ دے گا۔یہ نہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہاں دے گا اور ضرور دے گا بلکہ یہ اس وعدے کے ساتھ ہے کہ جو اس کی شرائط پوری کرنے والے ہوں گے۔اور وہ شرائط کیا ہیں ؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ میری عبادت کرنے والے ہوں گے۔شرک سے مکمل طور پر پرہیز کرنے والے ہوں گے۔اگر عبادت کرنے والے نہیں۔جو عبادت کا حق ہے اس سے عبادت کرنے والے نہیں۔اگر شرک سے کلی طور پر اجتناب کرنے والے نہیں اور اس سے بچنے والے نہیں جس طرح کہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے تو پھر وہ اس وعدہ سے بھر پور فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔پس خلافت ہو گی بھی تو ایسے لوگ اگر یہ شرائط پوری نہیں کر رہے، جو عمل کرنے والے نہیں وہ خلافت سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔