خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 232 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 232

خطبات مسرور جلد 16 232 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 مئی 2018 اور اس کی دعائیں بارور ہوتی ہیں تو وہ اس عاجزی کے زمانہ کو بھولتا نہیں بلکہ اسے یاد رکھتا ہے۔غرض اگر اس پر ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ سے کام پڑنا ہے تو تقویٰ کا طریق اختیار کرو۔مبارک وہ ہے جو کامیابی اور خوشی کے وقت تقویٰ اختیار کرلے اور بد قسمت وہ ہے جو ٹھو کر کھا کر اس کی طرف نہ جھکے۔" (ملفوظات جلد اوّل صفحہ 155تا157) آپ فرماتے ہیں ' اللہ تعالیٰ ان کی حمایت اور نصرت میں ہوتا ہے جو تقویٰ اختیار کریں۔تقویٰ کہتے ہیں بدی سے پر ہیز کرنے کو اور مخیستون وہ ہوتے ہیں جو اتناہی نہیں کہ بدی سے پر ہیز کریں بلکہ نیکی بھی کریں۔اور پھر یہ بھی فرمایا لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسٹی۔(یونس: 27) یعنی ان نیکیوں کو بھی سنوار سنوار کر کرتے ہیں۔" آپ اس آیت کی تشریح فرما رہے ہیں کہ ان اللهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَالَّذِينَ هُمْ مُحْسِنُونَ۔کہ یقینا اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور پھر جو احسان کرنے والے ہیں۔آپ فرماتے ہیں " مجھے یہ وحی بار بار ہوئی ان اللهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَالَّذِينَ هُمْ مُحْسِنُونَ اور اتنی مرتبہ ہوئی ہے کہ میں گن نہیں سکتا۔خدا جانے دو ہزار مرتبہ ہوئی ہو۔اس سے غرض یہی ہے کہ تا جماعت کو معلوم ہو جاوے کہ صرف اس بات پر ہی فریفتہ نہیں ہونا چاہئے کہ ہم اس جماعت میں شامل ہو گئے ہیں یا صرف خوش خیالی ایمان سے راضی ہو جاؤ۔اللہ تعالیٰ کی معیت اور نصرت اسی وقت ملے گی جب سچی تقویٰ ہو اور پھر نیکی ساتھ ہو۔" (ملفوظات جلد 8 صفحہ 371) اس بارے میں آپ مزید فرماتے ہیں: "إِنَّ اللهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَالَّذِينَ هُمْ مُحْسِنُونَ (النحل: 129) خدا تعالیٰ بھی انسان کے اعمال کا روز نامچہ بناتا ہے۔پس انسان کو بھی اپنے حالات کا ایک روز نامچہ تیار کرنا چاہئے اور اس میں غور کرنا چاہئے کہ نیکی میں کہاں تک آگے قدم رکھا ہے۔انسان کا آج اور کل برابر نہیں ہونے چاہئیں۔جس کا آج اور کل اس لحاظ سے کہ نیکی میں کیا ترقی کی ہے برابر ہو گیا وہ گھاٹے میں ہے۔انسان اگر خدا کو ماننے والا اور اسی پر کامل ایمان رکھنے والا ہو تو کبھی ضائع نہیں کیا جاتا بلکہ اس ایک کی خاطر لاکھوں جانیں بچائی جاتی ہیں۔"آپ مثال دیتے ہیں کہ " ایک شخص جو اولیاء اللہ میں سے تھے ان کا ذکر ہے کہ وہ جہاز میں سوار تھے۔سمندر میں طوفان آگیا۔قریب تھا کہ جہاز غرق ہو جا تا۔اس کی دعا سے بچا لیا گیا اور دعا کے وقت اس کو الہام ہوا کہ تیری خاطر ہم نے سب کو بچا لیا۔" آپ فرماتے ہیں " مگر یہ باتیں نر از بانی جمع خرچ کرنے سے حاصل نہیں ہو تیں " بلکہ اس کے لئے محنت کرنی پڑتی ہے۔اور آپ نے فرمایا کہ میرے ساتھ بھی اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کرائِي أَحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِي الدَّارِ۔( ملفوظات جلد 10 صفحہ 137-138) (ماخوذ از ملفوظات جلد 10 صفحہ 138) لیکن اس کے لئے تم لوگوں کو بھی پہلے تقویٰ اختیار کرنا پڑے گا۔اور آپ نے یہ بھی فرمایا کہ میری دعاؤں کی قبولیت کے لئے خود اپنے آپ کو دعاؤں کا اہل بنانے کی ضرورت ہے تب میری دعائیں قبول ہوں گی اور اس کے لئے تقویٰ ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس رمضان میں تقویٰ سے روزے رکھنے اور عبادت کرنے اور باقی حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اور ہر لحاظ سے یہ رمضان جماعت کے لئے بھی، مسلمانوں کے لئے بھی اور دنیا کے لئے بھی بابرکت