خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 231 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 231

خطبات مسرور جلد 16 231 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 مئی 2018 کیا اظہار ہوتا ہے اور ایک کافر اس کامیابی پر کیسا اظہار کرتا ہے۔آپ فرماتے ہیں : اس اصول کو ہمیشہ مد نظر رکھو۔مومن کا کام یہ ہے کہ وہ کسی کامیابی پر جو اسے دی جاتی ہے شرمندہ ہوتا ہے اور خدا کی حمد کرتا ہے۔" یعنی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے اس کی تعریف کرتا ہے " کہ اس نے اپنا فضل کیا اور اس طرح پر وہ قدم آگے رکھتا ہے اور ہر ابتلا میں ثابت قدم رہ کر ایمان پاتا ہے۔بظاہر ایک ہندو اور مومن کی کامیابی ایک رنگ میں مشابہ ہوتی ہے۔لیکن یاد رکھو کہ کافر کی کامیابی ضلالت کی راہ ہے اور مومن کی کامیابی سے اس کے لئے نعمتوں کا دروازہ کھلتا ہے۔کافر کی کامیابی ضلالت کی راہ ہے اور مومن کی کامیابی سے اس کے لئے نعمتوں کا دروازہ کھلتا ہے۔کافر کی کامیابی اس لئے ضلالت کی طرف لے جاتی ہے کہ وہ خدا کی طرف رجوع نہیں کر تا بلکہ اپنی محنت ، دانش اور قابلیت کو خدا بنالیتا ہے۔مگر مومن خدا کی طرف رجوع کر کے خدا سے ایک نیا تعارف پیدا کرتا ہے اور اس طرح پر ہر ایک کامیابی کے بعد اس کا خدا سے ایک نیا معاملہ شروع ہو جاتا ہے اور اس میں تبدیلی ہونے لگتی ہے۔اِنَّ اللهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا(النحل:129) خدا ان کے ساتھ ہوتا ہے جو متقی ہوتے ہیں۔یاد رکھنا چاہئے کہ قرآن شریف میں تقویٰ کا لفظ بہت مرتبہ آیا ہے اس کے معنی پہلے لفظ سے کئے جاتے ہیں۔یہاں مع کا لفظ آیا ہے۔یعنی جو خدا کو مقدم سمجھتا ہے خدا اس کو مقدم رکھتا ہے اور دنیا میں ہر قسم کی ذلتوں سے بچالیتا ہے۔میرا ایمان یہی ہے کہ اگر انسان دنیا میں ہر قسم کی ذلت اور سختی سے بچنا چاہے تو اس کے لئے ایک ہی راہ ہے کہ متقی بن جائے پھر اس کو کسی چیز کی کمی نہیں۔پس مومن کی کامیابیاں اس کو آگے لے جاتی ہیں اور وہ وہیں پر نہیں ٹھہر جاتا۔" پھر آپ فرماتے ہیں " اکثر لوگوں کے حالات کتابوں میں لکھے ہیں کہ اوائل میں دنیا سے تعلق رکھتے تھے اور شدید تعلق رکھتے تھے لیکن انہوں نے کوئی دعا کی اور وہ قبول ہو گئی۔اس کے بعد ان کی حالت ہی بدل گئی۔اس لئے اپنی دعاؤں کی قبولیت اور کامیابیوں پر نازاں نہ ہو بلکہ خدا کے فضل اور عنایت کی قدر کرو۔" یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے دعا کو قبول کیا۔بجائے اس بات پہ خوش ہونے کے یا فخر کرنے کے اللہ تعالیٰ کے فضلوں پر نظر رکھو۔آپ فرماتے ہیں کہ " قاعدہ ہے کہ کامیابی پر ہمت اور حوصلے میں ایک نئی زندگی آجاتی ہے۔اس زندگی سے فائدہ اٹھانا چاہئے اور اس سے اللہ تعالیٰ کی معرفت میں ترقی کرنی چاہئے۔"کامیابی ملی یا دعا قبول ہوئی تو اللہ تعالی کی پہچان زیادہ ہونی چاہئے۔اس کی معرفت ہونی چاہئے۔کیونکہ سب سے اعلیٰ درجہ کی بات جو کام آنے والی ہے وہ یہی معرفت الہی ہے اور یہ خدا تعالیٰ کے فضل و کرم پر غور کرنے سے پیدا ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل کو کوئی روک نہیں سکتا۔" فرماتے ہیں " بہت تنگدستی بھی انسان کو مصیبت میں ڈال دیتی ہے۔اس لئے حدیث میں آیا ہے الْفَقْرُ سَوَادُ الْوَجْهِ " یعنی تنگی چہروں کو بگاڑ دیتی ہے یا کالا کر دیتی ہے یا تنگدستی کی وجہ سے انسان دین سے بھی بسا اوقات دور ہٹ جاتا ہے۔آپ فرماتے ہیں " ایسے لوگ میں نے خود دیکھے ہیں جو اپنی تنگدستیوں کی وجہ سے دہر یہ ہو گئے ہیں۔مگر مومن کسی تنگی پر بھی خدا سے بد گمان نہیں ہو تا اور اس کو اپنی غلطیوں کا نتیجہ قرار دے کر اس سے رحم اور فضل کی درخواست کرتا ہے اور جب وہ زمانہ گزر جاتا ہے