خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 15 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 15

خطبات مسرور جلد 16 15 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 جنوری 2018 آج بھی ہم دیکھتے ہیں کہ انصاف سے کام لینے والے اس بات کا اعتراف کئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انتہائی جاہل، اجڈ اور نجاست میں غرق لوگوں کو تعلیم یافتہ انسان بنادیا اور باخد ا انسان بنادیا۔چند سال ہوئے ایک یہودی سکالر مجھے ملنے آئے اور کہنے لگے کہ باوجود اس کے کہ یہودیوں کو مسجد اقصیٰ میں جانے کی اجازت نہیں ہے۔میں وہاں گیا تھا اور ساری دیکھ کر آیا ہوں۔انہوں نے اس کو دیکھنے کی جو تفصیل مجھے سنائی وہ تو بڑی لمبی ہے۔بہر حال کہتے ہیں کہ وہاں دکھانے والا جو نگران تھا اس کو کئی دفعہ مجھ پر شک ہوا کہ یہ مسلمان نہیں ہے۔کہتے ہیں کہ ہر دفعہ میں نے کوئی ایسی بات کی جس سے ان کا مسلمان ہو نا ظاہر ہو تا تھا یہاں تک کہ وہاں کے نگر ان کو تسلی دلانے کیلئے یہ یہودی کہنے لگے کہ میں نے لا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مَحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللَّهِ کا کلمہ بھی پڑھ دیا۔خیر جب میں مسجد ا چھی طرح دیکھ چکا تو پھر وہاں کے نگران نے مجھے کہا کہ بیشک آپ نے کلمہ بھی پڑھ دیا ہے لیکن مجھے ابھی بھی آپ کے مسلمان ہونے میں شبہ ہے۔مجھے تسلی نہیں ہوئی۔اب دیکھ تو چکے ہیں ،اب مجھے حقیقت بتائیں کہ حقیقت کیا ہے؟ کہتے ہیں میں نے ان سے کہا کہ تم ٹھیک کہتے ہو۔میں مسلمان نہیں ہوں اور یہودی ہوں۔جہاں تک کلمہ پڑھنے کا سوال ہے تو لا اِلهَ اِلَّا الله پر میں یقین رکھتا ہوں۔اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور جو میں نے مَحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ کہا تو وہ بھی میں مانتا ہوں کیونکہ میں عربوں کی تاریخ سے واقف ہوں کہ اس زمانے میں عربوں کی کیا حالت تھی۔عربوں کی جو حالت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوے سے پہلے حالت تھی اسے ایک نبی ہی ٹھیک کر سکتا تھا۔کوئی دنیا دار لیڈر وہ حالت نہیں بدل سکتا تھا۔اس لئے باوجود اس کے کہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاؤں یانہ لاؤں میں ان کو خدا کی طرف سے بھیجا ہو انبی سمجھتا ہوں۔بہر حال اس نے باوجود دنیا داری کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عظیم انقلاب لانے کو تسلیم کیا۔پس آج بھی اگر کوئی انصاف کی نظر سے دیکھے تو صحابہ میں جو غیر معمولی تبدیلیاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی سے پیدا ہوئیں وہ یہ تسلیم کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ واقعی آپ خدا کے رسول تھے۔صحابہ کے بارے میں ، ان کے غیر معمولی مقام کے بارے میں ، ان میں غیر معمولی تبدیلیاں پیدا ہونے کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک موقع پر فرماتے ہیں کہ : " صحابہ کی نظیر دیکھ لو۔دراصل صحابہ کرام کے نمونے ایسے ہیں کہ گل انبیاء کی نظیر ہیں۔خدا کو تو عمل ہی پسند ہیں۔انہوں نے بکریوں کی طرح اپنی جانیں دیں۔اور ان کی مثال ایسی ہے جیسے نبوت کی ایک ہیکل آدم علیہ السلام سے چلی آتی تھی۔" یعنی جو شکل اور صورت اور مقام نبوت کا ایک تصور ہے وہ آدم کے زمانے سے چلا آتا ہے۔لیکن فرماتے ہیں کہ " اور سمجھ نہ آتی تھی مگر صحابہ کرام نے چمکا کر دکھلا دیا اور بتلا دیا کہ صدق اور وفا اسے کہتے ہیں۔" پھر آپ فرماتے ہیں کہ۔۔پھر جیسی بے آرامی کی زندگی انہوں نے بسر کی اس کی نظیر کہیں نہیں پائی جاتی۔صحابہ کرام کا گروہ عجیب گروہ قابلِ قدر اور قابل پیروی گروہ تھا۔ان کے دل یقین سے بھر گئے ہوئے تھے۔" آپ فرماتے ہیں کہ "جب یقین ہوتا ہے تو آہستہ آہستہ اوّل مال وغیرہ دینے کو جی چاہتا ہے پھر جب بڑھ جاتا ہے تو صاحب یقین خدا