خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 230 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 230

خطبات مسرور جلد 16 230 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 مئی 2018 اندازہ نہیں۔ان کی حمایت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَنْ عَادَ لِي وَلِيًّا فَقَدْ أذَنْتُه بِالْحَرْبِ۔(الحديث)" کہ" جو شخص میرے ولی کا مقابلہ کرتا ہے وہ میرے ساتھ مقابلہ کرتا ہے۔اب دیکھ لو ایسے لوگوں کو اگر نیکی کے معاملے میں جب ایسی باتیں آتی ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ خود اپنے ولی کا ساتھ دیتا ہے اور دشمنوں کو ایک وقت میں پھر ناکام و نامراد کرتا ہے۔" اب دیکھ لو کہ متقی کی شان کس قدر بلند ہے اور اس کا پایہ کس قدر عالی ہے جس کا قرب خدا کی جناب میں ایسا ہے کہ اس کا ستایاجاناخدا کا ستایا جاتا ہے تو خدا اس کا کس قدر معاون و مددگار ہو گا۔" (ملفوظات جلد اوّل صفحہ 13 تا15) پھر ہمیں اپنی زندگی کو غربت اور مسکینی میں بسر کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ : " اہل تقویٰ کے لئے یہ شرط ہے کہ وہ اپنی زندگی غربت اور مسکینی میں بسر کریں۔یہ تقویٰ کی ایک شاخ ہے جس کے ذریعہ سے ہمیں ناجائز غضب کا مقابلہ کرنا ہے۔بڑے بڑے عارف اور صدیقوں کے لئے آخری اور کڑی منزل غضب سے بچنا ہی ہے۔محجب و پندار غضب سے پیدا ہوتا ہے۔" یعنی تکبر اور غرور جو ہے وہ غصہ کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔" اور ایسا ہی کبھی خود غضب محجب و پندار کا نتیجہ ہوتا ہے۔کیونکہ غضب اس وقت ہو گا جب انسان اپنے نفس کو دوسرے پر ترجیح دیتا ہے۔میں نہیں چاہتا کہ میری جماعت والے آپس میں ایک دوسرے کو چھوٹا یا بڑا سمجھیں یا ایک دوسرے پر غرور کریں یا نظر استخفاف سے دیکھیں۔" غرور کریں یا نظر استخفاف سے دیکھیں۔"خدا جانتا ہے کہ بڑا کون ہے یا چھوٹا کون ہے۔یہ ایک قسم کی تحقیر ہے جس کے اندر حقارت ہے۔ڈر ہے کہ یہ حقارت بیچ کی طرح بڑھے اور اس کی ہلاکت کا باعث ہو جاوے۔بعض آدمی بڑوں کو مل کر بڑے ادب سے پیش آتے ہیں لیکن بڑا وہ ہے جو مسکین کی بات کو مسکینی سے سنے۔اس کی دلجوئی کرے۔اس کی بات کی عزت کرے کوئی چڑ کی بات منہ پر نہ لاوے کہ جس سے دکھ پہنچے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا تَنَابَزُوا بِالألْقَابِ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الإيمانِ (الحجرات:12)" کہ ایک دوسرے کو برے ناموں سے یاد نہ کرو۔ایمان کے بعد دین سے دور جانا بہت بڑی بات ہے۔"وَمَنْ لَمْ يَتُبْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّلِمُونَ (الحجرات:12)" اور جس نے توبہ نہ کی۔یہ باتیں کر تا رہا تو یہی ظالم لوگ ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ تم ایک دوسرے کا چڑ کے نام نہ لو۔یہ فعل فستاق وفجار کا ہے۔جو شخص کسی کو چڑاتا ہے وہ نہ مرے گا جب تک وہ خود اسی طرح مبتلا نہ ہو گا۔اپنے بھائیوں کو حقیر نہ سمجھو۔جب ایک ہی چشمہ سے گل پانی پیتے ہو تو کون جانتا ہے کہ کس کی قسمت میں زیادہ پانی پینا ہے۔مکرم و معظم کوئی دنیاوی اصولوں سے نہیں ہو سکتا۔خدا تعالیٰ کے نزدیک بڑا وہ ہے جو متقی ہے۔اِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَكُمْ إِنَّ اللهَ عَلِيمٌ خَبِير (الحجرات: 14)۔" ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 36) کہ یقینا اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ معزز وہی ہے جو متقی ہے۔یقیناً اللہ تعالیٰ دائمی علم رکھنے والا اور باخبر ہے۔پس اللہ تعالیٰ کو ہر حقیقت کا علم ہے۔ہر بات کا علم ہے کہ دکھاوے کا تقویٰ ہے یا حقیقی تقویٰ ہے۔اس لئے جب اللہ تعالیٰ کو علم ہے تو ہمیں پھر بڑے خوف سے اور اپنا جائزہ لیتے ہوئے حقیقی تقویٰ اپنانے کی کوشش کرنی چاہئے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اختیار کرو۔اس بات کی وضاحت فرماتے ہوئے کہ ایک مومن اور تقویٰ پہ چلنے والے کو جب کامیابی ملتی ہے تو اس کا