خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 229 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 229

خطبات مسرور جلد 16 229 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 مئی 2018 ہے۔فرمایا کہ " یہ نوافل ہیں۔" یہ نفل بن جاتا ہے۔" یہ بطور مکملات اور متممات فرائض کے ہیں۔" جب انسان بڑھ کر نیکیاں کرتا ہے تو ان سے جو فرض ہیں وہ مکمل ہوتے ہیں اور اپنی انتہا کو پہنچتے ہیں۔فرمایا کہ اس حدیث میں بیان ہے کہ اولیاء اللہ کے دینی فرائض کی تکمیل نوافل سے ہو رہتی ہے۔مثلاً زکوۃ کے علاوہ وہ اور صدقات دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ایسوں کا ولی ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کی دوستی یہاں تک ہوتی ہے کہ میں اس کے ہاتھ پاؤں وغیرہ حتی کہ اس کی زبان ہو جاتا ہوں جس سے وہ بولتا ہے۔" پھر آپ فرماتے ہیں کہ " بات یہ ہے کہ جب انسان جذبات نفس سے پاک ہو تا اور نفسانیت چھوڑ کر خدا کے ارادوں کے اندر چلتا ہے اس کا کوئی فعل نا جائز نہیں ہو تا بلکہ ہر ایک فعل خدا کی منشاء کے مطابق ہوتا ہے۔جہاں لوگ ابتلا میں پڑتے ہیں وہاں یہ امر ہمیشہ ہوتا ہے کہ وہ فعل خدا کے ارادہ سے مطابق نہیں ہو تا۔اللہ کی مرضی کے خلاف ہو وہیں ابتلاء شروع ہو جاتے ہیں۔"خدا کی رضا اس کے بر خلاف ہوتی ہے۔ایسا شخص اپنے جذبات کے نیچے چلتا ہے۔مثلاً غصہ میں آکر کوئی ایسا فعل اس سے سرزد ہو جاتا ہے جس سے مقدمات بن جایا کرتے ہیں۔فوجداریاں ہو جاتی ہیں۔مگر اگر کسی کا یہ ارادہ ہو کہ بلا استصواب کتاب اللہ اس کا حرکت و سکون نہ ہو گا۔" خدا تعالیٰ کی کتاب سے دیکھے بغیر کوئی حرکت نہیں ہو گی۔کوئی کام نہیں ہو گا اور اپنی ہر ایک بات پر کتاب اللہ کی طرف رجوع کرے گا تو یقینی امر ہے کہ کتاب اللہ مشورہ دے گی۔جیسے فرما یا ولا رطب ولا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ (الانعام: 60) " کہ نہ کوئی تر چیز اور نہ کوئی خشک چیز ہے مگر اس کا ذکر ایک روشن کتاب میں ہے۔یعنی قرآن کریم نے ہر نیکی اور بدی کو کھول کر بیان کر دیا ہے اور جو اس پر عمل کرے گاوہ محفوظ رہے گا۔فرمایا سو اگر ہم یہ ارادہ کریں کہ ہم مشورہ کتاب اللہ سے لیں گے تو ہم کو ضرور مشورہ ملے گا۔" دنیاوی کاموں میں لوگوں کو جو ابتلا آتے ہیں یاوہ کوئی بھی غلط کام کرتے ہیں تو اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل نہیں کر رہے ہوتے۔قرآن کریم کو دیکھے بغیر جب چلیں گے ، اس کے حکموں کو سامنے رکھے بغیر اگر کوئی کام کریں گے تو پھر مشکلات میں انسان گرفتار ہوتا ہے۔یہاں یہ فرق ہونا چاہئے کہ دینی معاملات میں اللہ تعالیٰ امتحان میں ڈالتا ہے اور اس کے لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ امتحان بھی نیکیوں کو آزمانے کے لئے ہیں۔اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ انبیاء سب سے زیادہ ایسے امتحانوں سے گزرتے ہیں۔ایک تو دنیاوی باتیں ہیں جن پہ انسان مشکلات میں پڑتا ہے اور وہ اس لئے مشکلات میں پڑتا ہے کہ وہ دنیاداری کی سوچ سے سوچتا ہے۔ایک مومن ہونے کا دعویٰ تو کرتا ہے لیکن ہمارے لئے جو راہ ہدایت ہے وہ قرآن کریم ہے۔اس کے حکموں پر وہ عمل کرنے کی کوشش نہیں کرتاتب مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اس وجہ سے ابتلا آتے ہیں۔بہر حال پھر آپ فرماتے ہیں کہ "لیکن جو اپنے جذبات کا تابع ہے وہ ضرور نقصان ہی میں پڑے گا۔" یہ بات مزید کھل گئی کہ جذبات کا تابع ہو کر دنیاوی معاملات میں نقصان اٹھاتا ہے۔بسا اوقات وہ اس جگہ مؤاخذہ میں پڑے گا۔سو اس کے مقابل اللہ نے فرمایا کہ ولی جو میرے ساتھ بولتے چلتے کام کرتے ہیں وہ گویا اس میں محو ہیں۔سو جس قدر کوئی محویت میں کم ہے وہ اتنا ہی خدا سے دُور ہے۔لیکن اگر اس کی محویت ویسی ہی ہے جیسے خدا نے فرمایا تو اس کے ایمان کا