خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 228 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 228

خطبات مسرور جلد 16 228 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 مئی 2018 تہ مخلصی کا نکال دیتا ہے اور اس کے لئے ایسے روزی کے سامان پیدا کر دیتا ہے کہ اس کے علم و گمان میں نہ ہوں۔یعنی یہ بھی ایک علامت متقی کی ہے کہ اللہ تعالیٰ متقی کو نابکار ضرورتوں کا محتاج نہیں کرتا۔" یعنی سامان کر دیتا ہے اور ایسی بے مقصد جو ضرور تیں ہیں یا بے مقصد خواہشات ہیں وہ دل میں پیدا نہیں ہو تیں یا ان کا محتاج نہیں کرتا اس کا خیال بھی نہیں آتا۔یہ بھی تقویٰ کی نشانی ہے اور اللہ تعالیٰ کی متقی کے ساتھ ایک سلوک کی نشانی ہے۔فرمایا " مثلاً ایک دوکاندار یہ خیال کرتا ہے کہ درونگوئی کے سوا اس کا کام ہی نہیں چل سکتا اس لئے وہ درونگوئی سے باز نہیں آتا اور جھوٹ بولنے کے لئے وہ مجبوری ظاہر کرتا ہے لیکن یہ امر ہر گز سچ نہیں۔خدا تعالیٰ متقی کا خود محافظ ہو جاتا اور اُسے ایسے موقع سے بچالیتا ہے جو خلاف حق پر مجبور کرنے والے ہوں۔"یعنی ایسا موقع ہی نہیں آتا کہ وہ جھوٹ بولے۔" یاد رکھو جب اللہ تعالیٰ کو کسی نے چھوڑا ، تو خدا نے اسے چھوڑ دیا۔جب رحمان نے چھوڑ دیا تو ضرور شیطان اپنا رشتہ جوڑے گا۔" پھر آپ فرماتے ہیں کہ " یہ نہ سمجھو کہ اللہ تعالیٰ کمزور ہے۔وہ بڑی طاقت والا ہے۔جب اس پر کسی امر میں بھروسہ کرو گے وہ ضرور تمہاری مدد کرے گا۔وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ فَهُوَ حَسْبُهُ۔(الطلاق:4) اور جو کوئی اللہ تعالیٰ پر توکل کرتا ہے تو وہ اس کے لئے کافی ہو جاتا ہے۔"لیکن جو لوگ ان آیات کے پہلے مخاطب تھے وہ اہل دین تھے۔ان کی ساری فکریں محض دینی امور کے لئے تھیں اور دنیوی امور حوالہ بخدا تھے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو تسلی دی کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔غرض برکات تقویٰ میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ متقی کو ان مصائب سے مخلصی بخشتا ہے جو دینی امور کے حارج ہوں۔" (ملفوظات جلد اوّل صفحہ 12) یعنی اگر تقویٰ صحیح ہے تو دنیاوی پریشانیاں جو ہیں وہ بھی اللہ تعالیٰ اس لئے دُور کر دیتا ہے کہ دینی کاموں میں روک پیدا نہ ہو۔پس اس لحاظ سے بھی جہاں لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے دنیاوی مسائل ایسے ہیں کہ دینی کام میں ہم حصہ نہیں لے سکتے۔اگر صحیح تقویٰ ہے تو اللہ تعالیٰ دنیاوی مسائل خود بخود حل کر دیتا ہے اور پھر دین کی خدمت کی توفیق ملتی ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اس بات کی وضاحت فرماتے ہوئے کہ نیکیوں کے دوحصے ہیں اور نیکیاں کرنے والے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کیسا سلوک فرماتا ہے۔فرماتے ہیں کہ: " انسان جس قدر نیکیاں کرتا ہے اس کے دو حصے ہوتے ہیں۔ایک فرائض دوسرے نوافل " ایک فرض ہے جو تم نے کرنا ہے۔ایک نفل ہے۔" فرائض یعنی جو انسان پر فرض کیا گیا ہو جیسے قرضہ کا اتارنا کسی سے قرض لیا ہوا ہے اس کا اتار نا فرض ہے۔"یا نیکی کے مقابل نیکی" یہ بھی فرض ہے۔کوئی نیکی کرتا ہے تو اس کے مقابلے پر نیکی کرو۔اس کا حق ادا کرو۔فرمایا کہ صرف یہ نیکی نہیں ہے۔یہ کوئی احسان نہیں ہے کہ اس نے نیکی کی تو میں نے بھی نیکی کر دی۔اگر کسی نے نیکی کی ہے تو اس کے مقابلے پر تم بھی اس سے نیکی کرو۔یہ تمہارا فرض ہے اور دوسرے کا حق ہے۔فرمایا ان فرائض کے علاوہ ہر ایک نیکی کے ساتھ نوافل ہوتے ہیں یعنی ایسی نیکی جو اس کے حق سے فاضل ہو۔" زائد نیکی ہو۔" جیسے احسان کے مقابل احسان کے علاوہ اور احسان کرنا۔کسی نے احسان کیا اس کے احسان کا بدلہ چکا دینا یہ تو برابر کی ایک نیکی ہو گئی لیکن اور احسان کرنا۔اس سے زائد احسان کرنا یہ نوافل کے حق سے فاضل