خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 227
227 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 مئی 2018 خطبات مسرور جلد 16 اور بے معنی، بیہودہ، بے موقع غیر ضروری باتوں سے احتراز کیا جائے۔" پس صرف زبان کو دوسروں کو تکلیف دینے سے روکنے کے لئے حکم نہیں ہے۔اپنی خود نمائی جو ہے ، خود پسندی جو ہے ، دکھا واجو ہے یہ بھی نیکیوں سے دور کرنے والا ہو جاتا ہے اور تقویٰ سے دور ہٹانے والا بن جاتا ہے۔پس اس لحاظ سے بھی ہمیں غور کرنا چاہئے۔آپ نے فرمایا دیکھو۔اللہ تعالیٰ نے ايَّاكَ نَعْبُدُ کی تعلیم دی ہے۔اب ممکن تھا کہ انسان اپنی قوت پر ھر وسہ کر لیتا اور خدا سے دور ہو جاتا۔اس لئے ساتھ ہی اِيَّاكَ نَسْتَعِین کی تعلیم دے دی کہ یہ مت سمجھو کہ یہ عبادت جو میں کر تاہوں اپنی قوت اور طاقت سے کرتا ہوں، ہر گز نہیں۔بلکہ اللہ تعالیٰ کی استعانت جب تک نہ ہو اور خود وہ پاک ذات جب تک توفیق اور طاقت نہ دے کچھ بھی نہیں ہو سکتا اور پھر اِيَّاكَ أَعْبُدُ يَا إِيَّاكَ أَسْتَعِيْن نہیں کہا۔اس لئے کہ اس میں نفس کے تقدم کی بو آتی تھی۔" اپنا یہ اظہار ہوتا ہے کہ میں کچھ کر رہا ہو اور یہ تقویٰ کے خلاف ہے۔" فرمایا کہ " تقویٰ والا گل انسانوں کو لیتا ہے۔زبان سے ہی انسان تقویٰ سے دُور چلا جاتا ہے۔" یعنی تقویٰ جو ہے ہر معاملہ میں ضروری ہے۔زبان ہے اس سے انسان تقویٰ سے دور چلا جاتا ہے۔" زبان سے تکبر کر لیتا ہے اور زبان سے ہی فرعونی صفات آجاتی ہیں۔" لوگ بہت بڑے دعوے کرنے لگ جاتے ہیں " اور اسی زبان کی وجہ سے پوشیدہ اعمال کو ریا کاری سے بدل لیتا ہے اور زبان کا زیان بہت جلد پید اہوتا ہے۔" آپ فرماتے ہیں کہ " حدیث شریف میں آیا ہے کہ جو شخص ناف کے نیچے کے عضو اور زبان کو شر سے بچاتا ہے اس کی بہشت کا ذمہ دار میں ہوں۔حرام خوری اس قدر نقصان نہیں پہنچاتی جیسے قولِ زُور۔اس سے کوئی یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ حرام خوری اچھی چیز ہے۔" جھوٹ اور غلط بات کہنا نقصان پہنچانے والی چیز ہے۔یہ نہ سمجھو کہ حرام خوری اچھی چیز ہے۔" یہ سخت غلطی ہے اگر کوئی ایسا سمجھے۔" آپ فرماتے ہیں کہ " میر امطلب یہ ہے کہ ایک شخص جو اضطرار اسور کھالے تو یہ امر دیگر ہے۔" اضطراراً اجازت ہے۔اللہ تعالیٰ نے اجازت دی ہوئی ہے " لیکن اگر وہ اپنی زبان سے خنزیر کا فتویٰ دے دے تو وہ اسلام سے دُور نکل جاتا ہے۔" یہ فتویٰ دے دے کہ ہر حالت میں سور کھانا جائز ہے تو پھر وہ اسلام سے ہٹ گیا۔آپ فرماتے ہیں کہ اس طرح اللہ تعالیٰ کے حرام کو حلال ٹھہراتا ہے۔غرض اس سے معلوم ہوا کہ زبان کا زیان خطر ناک ہے اس لئے متقی اپنی زبان کو بہت ہی قابو میں رکھتا ہے۔اس کے منہ سے کوئی ایسی بات نہیں نکلتی جو تقویٰ کے خلاف ہو۔" آپ فرماتے ہیں " پس تم اپنی زبان پر حکومت کرو نہ یہ کہ زبانیں تم پر حکومت کریں اور آناپ شناپ بولتے رہو۔" روزوں میں بہت ساروں کے ذکر الہی میں اضافہ ہوا ہے تو اس اضافے کے ساتھ غیر ضروری باتوں میں (ملفوظات جلد اوّل صفحہ 421 تا 423) بھی کمی ہونی چاہئے اور اس کے لئے کوشش کرنی چاہئے تاکہ روزوں کا اور تقویٰ کا مقصد پورا ہو۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ : " ہمیشہ دیکھنا چاہئے کہ ہم نے تقویٰ و طہارت میں کہاں تک ترقی کی ہے۔اس کا معیار قرآن ہے۔اللہ تعالیٰ نے متقی کے نشانوں میں ایک یہ بھی نشان رکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ متقی کو مکروہات دنیا سے آزاد کر کے اس کے کاموں کا خود مشکل ہو جاتا ہے۔جیسے کہ فرمایا وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقُهُ مِنْ حَيْثُ لا يَحْتَسِبُ (الطلاق: 3-4) جو شخص خدا تعالیٰ سے ڈرتا ہے اللہ تعالی ہر ایک مصیبت میں اس کے لئے