خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 226
خطبات مسرور جلد 16 226 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 مئی 2018 ایک جام شراب پی کر ایک اور مانگتا ہے اور مانگتا ہی جاتا ہے اور ایک جلن سی لگی رہتی ہے ایسا ہی دنیا دار بھی سعیر میں ہے۔جل رہا ہے" اس کی آتش آز ایک دم بھی بجھ نہیں سکتی۔سچی خوشحالی حقیقت میں ایک متقی ہی کے لئے ہے جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے کہ اس کے لئے دو جنت ہیں۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 420-421) پھر اس بات کو مزید بیان فرماتے ہوئے کہ حقیقی راحت اور لذت کا مدار تقویٰ پر ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ : متقی سچی خوشحالی ایک جھونپڑی میں پاسکتا ہے جو دنیادار اور حرص و آز کے پرستار کو رفیع الشان قصر میں بھی نہیں مل سکتی۔" قناعت ہو ، تقویٰ ہو، اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول مقصد ہو تو کم حالات میں بھی انسان گزارہ کر لیتا ہے اور سکون اور لذت پید ا ہو جاتی ہے جبکہ بڑے بڑے امیروں کو لذت پیدا نہیں ہو سکتی۔فرمایا کہ " جس قدر دنیا زیادہ ملتی ہے اسی قدر بلائیں زیادہ سامنے آجاتی ہیں۔پس یاد رکھو کہ حقیقی راحت اور لذت دنیا دار کے حصہ میں نہیں آئی۔یہ مت سمجھو کہ مال کی کثرت، عمدہ عمدہ لباس اور کھانے کسی خوشی کا باعث ہو سکتے ہیں۔ہر گز نہیں۔بلکہ اس کا مدار ہی تقویٰ پر ہے۔جبکہ ان ساری باتوں سے معلوم ہو گیا کہ سچے تقویٰ کے بغیر کوئی راحت اور خوشی مل ہی نہیں سکتی تو معلوم کرنا چاہئے کہ تقویٰ کے بہت سے شعبے ہیں جو عنکبوت کے تاروں کی طرح پھیلے ہوئے ہیں " یعنی مکڑی کے جالے کی طرح پھیلے ہوئے ہیں۔باریک باریک تاریں ہیں۔" تقویٰ تمام جوارح انسانی " یعنی تمام انسانی اعضاء جو ہیں " اور عقائد زبان اخلاق وغیرہ سے متعلق ہے۔" عقائد میں بھی تقویٰ ہو۔زبان میں بھی تقویٰ ہو۔عام اخلاق میں بھی تقویٰ ہو۔روزہ کے حوالے سے ایک حدیث بھی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ روزہ دار اپنی زبان کو ہمیشہ پاک رکھے اور اگر کوئی اس سے جھگڑے تو تب بھی وہ یہی کہے کہ میں روزہ دار ہوں۔میں تمہاری ان باتوں کا جواب نہیں دے سکتا۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 421 تا 422) (بخاری کتاب الصوم باب هل يقول اِنّى صَائِمٌ إِذَا شُتِم حديث 1904) " فرمایا کہ "نازک ترین معاملہ زبان سے ہے۔بسا اوقات تقویٰ کو دور کر کے ایک بات کہتا ہے اور دل میں خوش ہو جاتا ہے کہ میں نے یوں کہا اور ایسا کہا حالانکہ وہ بات بری ہوتی ہے۔مجھے اس پر ایک نقل یاد آئی ہے کہ ایک بزرگ کی کسی دنیا دار نے دعوت کی۔اب یہ باریکی بھی دیکھنے والی چیز ہے۔صرف یہی نہیں کہ موٹی موٹی گالیاں دے دیں یا لڑائی کر لی یا جھگڑا کر لیا بلکہ خود پسندی اور دکھاوا بھی ہے۔زبان کی جو غلطیاں ہیں یا زبان کی وجہ سے جو گناہ ہوتے ہیں یا زبان کی وجہ سے جو تقویٰ میں کمی ہے اس میں یہ چیزیں بھی آتی ہیں۔تو فرمایا کہ ایک بزرگ کی کسی دنیا دار نے دعوت کی۔جب وہ بزرگ کھانا کھانے کے لئے تشریف لے گئے تو اس متکبر دنیا دار نے اپنے نوکر کو کہا کہ فلاں تھال لانا جو ہم پہلے حج میں لائے تھے۔اور پھر کہا دوسرا تھال بھی لاناجو دوسرے حج میں لائے تھے۔اور پھر کہا کہ تیسرے حج والا بھی لیتے آنا۔اس بزرگ نے فرمایا ' اس دنیا دار کو " کہ تو تو بہت ہی قابل رحم ہے۔ان تین فقروں میں تو نے اپنے تین ہی حجوں کا ستیاناس کر دیا۔دنیا دکھاوے کے لئے حج تھے، نہ کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے۔تقویٰ سے دور ہٹے ہوئے تھے۔آپ فرماتے ہیں کہ اس بزرگ نے یہ کہا کہ " تیر امطلب اس سے صرف یہ تھا کہ تو اس امر کا اظہار کرے کہ تو نے تین حج کئے ہیں۔اس لئے خدا نے تعلیم دی ہے کہ زبان کو سنبھال کر رکھا جائے