خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 225
خطبات مسرور جلد 16 225 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 مئی 2018 اللهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا۔(النحل: 129) خدا ان کے ساتھ ہوتا ہے۔یعنی ان کی نصرت کرتا ہے جو متقی ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی معیت کا ثبوت اس کی نصرت ہی سے ملتا ہے۔"اگر اللہ تعالیٰ مدد کر رہا ہے تو سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔" پہلا دروازہ ولایت کا ویسے بند ہوا۔اب دوسرا دروازہ معیت اور نصرت الہی کا اس طرح پر بند ہوا۔اللہ تعالیٰ سے کلام کا وعدہ تو کہتے ہیں ناں کہ ختم ہو گیا۔اس کا دروازہ بند ہو گیا۔اب یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی جو مد دہے اس کا دروازہ بھی بند کرنا چاہتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ " یاد رکھو اللہ تعالیٰ کی نصرت کبھی بھی ناپاکوں اور فاسقوں کو نہیں مل سکتی۔اس کا انحصار تقویٰ ہی پر ہے۔خدا کی اعانت متقی ہی کے لئے ہے۔فرمایا " پھر ایک اور راہ ہے کہ انسان مشکلات اور مصائب میں مبتلا ہوتا ہے اور حاجات مختلف رکھتا ہے۔ان کے حل اور روا ہونے کے لئے بھی تقوی ہی کو اصول قرار دیا ہے۔" اگر حل کرنا ہے تو پھر تقویٰ ہی ہے جس سے وہ پورے ہو سکتے ہیں یا یہ نتیجے نکل سکتے ہیں۔فرمایا " معاش کی تنگی اور دوسری تنگیوں سے راہ نجات تقویٰ ہی ہے۔فرمایا " یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ " مَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقُهُ مِنْ حَيْثُ لا يَحْتَسِبُ (الطلاق: 3-4) خدا متقی کے لئے ہر مشکل میں ایک مخرج پیدا کر دیتا ہے اور اس کو غیب سے اس سے مخلصی پانے کے اسباب بہم پہنچا دیتا ہے۔اس کو ایسے طور سے رزق دیتا ہے کہ اس کو پتہ بھی نہ لگے۔" پس یہ دعا بھی بہت کرنی چاہئے اور اس کو یاد رکھنا چاہئے کہ مَنْ يَتَّقِ الله يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ۔(الطلاق: 3-4) ہمیشہ انسان یہ یاد رکھے تو تقویٰ پر چلنے کی طرف بھی توجہ پیدا ہوتی رہتی ہے۔فرمایا کہ " اب غور کر کے دیکھ لو کہ انسان اس دنیا میں چاہتا کیا ہے۔انسان کی بڑی سے بڑی خواہش دنیا میں یہی ہے کہ اس کو سکھ اور آرام ملے اور اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک ہی راہ مقرر کی ہے جو تقویٰ کی راہ کہلاتی ہے اور دوسرے لفظوں میں اس کو قرآن کریم کی راہ کہتے ہیں اور یا اس کا نام صراط مستقیم رکھتے ہیں۔کوئی یہ نہ کہے کہ کفار کے پاس بھی مال و دولت اور املاک ہوتے ہیں اور وہ اپنی عیش و عشرت میں منہمک اور مست رہتے ہیں۔فرمایا میں تمہیں سچ کہتا ہوں کہ وہ دنیا کی آنکھ میں بلکہ ذلیل دنیا داروں اور ظاہر پرستوں کی آنکھ میں خوش معلوم دیتے ہیں۔مگر در حقیقت وہ ایک جلن اور دکھ میں مبتلا ہوتے ہیں۔تم نے ان کی صورت کو دیکھا ہے مگر میں ایسے لوگوں کے قلب پر نگاہ کر تا ہوں۔وہ ایک سعیر اور سلاسل و اغلال میں جکڑے ہوئے ہیں۔" آگ میں جل رہے ہیں۔زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔" جیسے فرمایا ہے انا أَعْتَدْنَا لِلْكَفِرِينَ سَلْسِلَ وَأَغْلَالًا وَسَعِيرًا" (الدھر: 5) کہ یقیناً ہم نے کافروں کے لئے زنجیریں اور طوق اور جہنم تیار کر رکھے ہیں۔آپ فرماتے ہیں " وہ نیکی کی طرف آہی نہیں سکتے۔وہ ایسے اغلال ہیں کہ خدا کی طرف " سے "ان اغلال کی وجہ سے ایسے دبے پڑے ہیں کہ حیوانوں اور بہائم سے بھی بدتر ہو جاتے ہیں۔ان کی آنکھ ہر وقت دنیا ہی کی طرف لگی رہتی ہے اور زمین کی طرف جھکتے جاتے ہیں۔پھر اندر ہی اندر ایک سوزش اور جلن بھی لگی ہوئی ہوتی ہے۔اگر مال میں کمی ہو جائے یا حسب مراد تدبیر میں کامیابی نہ ہو تو کڑھتے اور جلتے ہیں یہاں تک کہ بعض اوقات سودائی اور پاگل ہو جاتے ہیں یاعدالتوں میں مارے مارے پھرتے ہیں۔فرمایا کہ " یہ واقعی بات ہے کہ بے دین آدمی سعیر سے خالی نہیں ہوتا۔" اپنی آگ میں جل رہا ہوتا ہے اور اس قسم کے کئی نظارے ہمیں نظر آتے ہیں اخباروں میں ایسی خبریں بھی پڑھی ہیں۔فرمایا کہ اس لئے کہ اس کو قرار اور سکون نصیب نہیں ہو تا جو راحت اور تسلی کالازمی نتیجہ ہے۔جیسے شرابی