خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 224 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 224

خطبات مسرور جلد 16 224 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 مئی 2018 میں بھی ہوں کہ اپنی جماعت میں سے سچے متقیوں ، دین کو دنیا پر مقدم کرنے والوں اور منقطعین الی اللہ کو الگ کروں اور بعض دینی کام انہیں سپر د کروں اور پھر میں دنیا کے ہم و غم میں مبتلا رہنے والوں اور رات دن مردار دنیا ہی کی طلب میں جان کھپانے والوں کی کچھ بھی پرواہ نہ کروں گا۔" پس یہ درد ہے آپ کا کہ میری جماعت کا ہر فرد ایسا ہو جو تقویٰ پر چلنے والا ہو۔نہ کہ صرف دنیا کا غم ہی ہر ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 303) وقت اسے کھائے جائے۔پھر اس بات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہ تقویٰ پر چلنا ہی اصل میں شریعت کا خلاصہ ہے اور اگر دعاؤں کی قبولیت چاہتے ہو تو تقویٰ پر چلو۔آپ فرماتے ہیں: چاہئے کہ وہ تقویٰ کی راہ اختیار کریں کیونکہ تقویٰ ہی ایک ایسی چیز ہے جس کو شریعت کا خلاصہ کہہ سکتے ہیں۔" احمدیوں کو مخاطب ہو کر فرمارہے ہیں اور اگر شریعت کو مختصر طور پر بیان کرنا چاہیں تو مغز شریعت تقویٰ ہی ہو سکتا ہے۔تقویٰ کے مدارج اور مراتب بہت ہیں۔لیکن اگر طالب صادق ہو کر ابتدائی مراتب اور مراحل کو استقلال اور خلوص سے طے کرے تو وہ اس راستی اور طلب صدق کی وجہ سے اعلیٰ مدارج کو پالیتا ہے۔" پس مستقل مزاجی سے ہر نیکی چاہے وہ چھوٹی نیکی ہے یا بڑی نیکی ہے اس کی طرف توجہ دینا ضروری ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ :" اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اِثْمَا يَتَقَبَّلُ اللهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ (المائدة: 28) گویا اللہ تعالیٰ متقیوں کی دعاؤں کو قبول فرماتا ہے۔یہ گویا اس کا وعدہ ہے اور اس کے وعدوں میں تخلف نہیں ہو تا۔" اپنا وعدہ خلافی نہیں کرتا جیسا کہ فرمایا ہے اِنَّ اللهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَاد (الرعد : 32)۔پس جس حال میں تقویٰ کی شرط قبولیت دعا کے لئے ایک غیر منفک شرط ہے۔ایک بنیادی شرط ہے جسے الگ نہیں کیا جا سکتا۔تقویٰ بہر حال قبولیت دعا کے لئے ضروری ہے فرمایا " تو ایک انسان غافل اور بے راہ ہو کر اگر قبولیت دعا چاہے تو کیا وہ احمق اور نادان نہیں ہے۔لہذا ہماری جماعت کو لازم ہے کہ جہاں تک ممکن ہو ہر ایک ان میں سے تقویٰ کی راہوں پر قدم مارے تا کہ قبولیت دعا کا سرور اور حق حاصل کرے اور زیادتی ایمان کا حصہ لے۔" (ملفوظات جلد اوّل صفحہ 108-109) پس رمضان سے فائدہ اٹھانے کے لئے یہ بنیادی نسخہ ہے کہ ہمارے روزے اور ہمارا ہر عمل تقویٰ کے حصول کے لئے ہو۔بہت سارے لوگ کہتے ہیں دعائیں قبول نہیں ہو تیں۔ہم نے بڑی دعائیں کیں قبول نہیں ہوئیں۔ان کو پہلے اپنے اندر دیکھنا چاہئے کہ کیا ان کے اندر دین غالب ہے ؟ تقویٰ پر چلنے والے ہیں یا دنیا کی ملونی زیادہ ہو گئی ہے ؟ پس دعا کی قبولیت کے لئے ایک یہ بھی شرط ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ : " در حقیقت متقیوں کے واسطے بڑے بڑے وعدے ہیں اور اس سے بڑھ کر کیا ہو گا کہ اللہ تعالیٰ متقیوں کا ولی ہوتا ہے۔جھوٹے ہیں وہ جو کہتے ہیں کہ ہم مقرب بارگاہ الہی ہیں اور پھر متقی نہیں ہیں بلکہ فسق و فجور کی زندگی بسر کرتے ہیں اور ایک ظلم اور غضب کرتے ہیں جبکہ وہ ولایت اور قرب الہی کے درجے کو اپنے ساتھ منسوب کرتے ہیں۔" یہ نام نہاد بزرگ ہیں " کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ متقی ہونے کی شرط لگادی ہے۔" ولی کے ساتھ متقی ہو نا شرط ہے۔فرمایا " پھر ایک اور شرط لگاتا ہے یا یہ کہو، متقیوں کا ایک نشان بتاتا ہے۔انّ