خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 223 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 223

خطبات مسرور جلد 16 223 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 مئی 2018 کھائیں گے۔لیکن وہ نوجوان کہنے لگا کہ حقیقت یہ ہے کہ جو معاشرتی دباؤ ہے۔معاشرے کا جو دباؤ ہے یا گھر والوں کو دکھانے کے لئے میں ظاہر تو یہ کرتا ہوں کہ میرا روزہ ہے اور میں نے آج صبح سحری بھی کھائی تھی مگر آج دوپہر کو ابھی میں فش اینڈ چپس کھا کر آیا ہوں اور کہنے لگا کہ یہاں انگلستان میں میری طرح کے ہزاروں نوجوان ہیں جو اس قسم کے روزے رکھتے ہیں۔تو یہ تو بعض لوگوں کے روزے کی حقیقت ہے اور پھر بعض اگر پورا دن فاقہ بھی کر لیتے ہیں تو نمازوں اور عبادت کی طرف وہ توجہ نہیں ہوتی جو ہونی چاہئے۔ایک آدھ نماز پڑھ لی اور بس۔اللہ تعالیٰ کے اوامر اور نواہی کی طرف کوئی توجہ نہیں۔ایسے روزے پھر اس مقصد کو پورا نہیں کر رہے جو اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ تم تقویٰ اختیار کرو۔پس ہم احمدیوں کی بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننے کے بعد اپنے روزوں کے اس طرح حق ادا کرنے کی کوشش کریں جس طرح ان کا حق ادا کرنے کا اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ تقویٰ کیا ہے اور ہم نے اسے کس طرح اختیار کرنا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے مختلف مواقع پر تقویٰ کے بارے میں ہمیں بتایا کہ متقی کون ہے؟ حقیقی راحت اور لذت اصل میں تقویٰ ہی سے پیدا ہوتی ہے نہ کہ دنیا کی لذتوں میں راحت ہے۔کس طرح ہمیں نیکیاں بجالانی چاہئیں۔انسان کو حقیقی مومن بننے کے لئے اپنا ہر کام خدا تعالیٰ کی مرضی اور اس کی رضا حاصل کرنے کے لئے کرنا چاہئے اور یہی ایک بات ہے جو مومن اور کافر میں فرق ڈالتی ہے۔اور یہ بھی آپ نے ہمیں بتایا کہ اللہ تعالیٰ کی معرفت میں انسان ترقی کرے۔ہر روز جو آئے ، ہر آنے والا دن ہمیں اللہ تعالیٰ کی معرفت میں آگے لے جانے والا ہو ، نہ کہ وہیں کھڑے رہیں یا ان لوگوں کی طرح ہوں جو صرف معاشرتی دباؤ کی وجہ سے دکھانے کے لئے روزے رکھتے ہیں نہ کہ تقویٰ میں بڑھنے کے لئے جیسا کہ میں نے ابھی مثال دی۔بہر حال اس وقت میں تقویٰ سے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مختلف اقتباسات پیش کروں گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمیں خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے تقویٰ پر چلنے کی نصیحت کرتے ہوئے اپنے ایک الہام کا ذکر کرتے ہوئے بیان فرماتے ہیں اور یہ بھی کہ تقویٰ تمام پرانے صحف مقدسہ کا خلاصہ ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ : "کل " یعنی 22 / جون 1899 ء جلسہ کا ذکر فرما رہے ہیں کہ " بہت دفعہ خدا کی طرف سے الہام ہوا کہ تم لوگ متقی بن جاؤ اور تقویٰ کی باریک راہوں پر چلو تو خدا تمہارے ساتھ ہو گا۔" فرمایا " اس سے میرے دل میں بڑا درد پیدا ہوتا ہے کہ میں کیا کروں کہ ہماری جماعت سچا تقویٰ و طہارت اختیار کر لے۔" پھر فرمایا کہ " میں اتنی دعا کرتا ہوں کہ دعا کرتے کرتے ضعف کا غلبہ ہو جاتا ہے اور بعض اوقات غشی اور ہلاکت تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔" فرمایا جب تک کوئی جماعت خدا تعالیٰ کی نگاہ میں متقی نہ بن جائے خدا تعالیٰ کی نصرت اس کے شامل حال نہیں ہو سکتی۔فرمایا " تقوی خلاصہ ہے تمام صحف مقدسہ اور توریت وانجیل کی تعلیمات کا۔قرآن کریم نے ایک ہی لفظ میں خدا تعالیٰ کی عظیم الشان مرضی اور پوری رضا کا اظہار کر دیا ہے۔"یعنی تقویٰ کے لفظ میں۔فرمایا " میں اس فکر