خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 222
خطبات مسرور جلد 16 222 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 مئی 2018 متعلق بھی بیان ہوا ہے۔لیکن ان سب کا خلاصہ اس آیت کے اس ایک لفظ میں بیان کر دیا کہ مقصد تقویٰ ہے۔پس اس مہینہ میں اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل اور اس کی عبادت کی طرف توجہ دے کر خاص طور پر کوشش کرو تا کہ ان پر عمل ہمیشہ کے لئے تمہیں اپنی زندگیوں کا حصہ بنانے میں آسانی پیدا کرنے والا بن سکے۔پس رمضان میں جب ہم تقویٰ کے حصول کے لئے کوشش کرتے ہیں یا کوشش کرنے والے ہوں گے تو اپنی عبادتوں کی طرف توجہ ہو گی۔اگر ہم تقویٰ پر چلنے کی کوشش کرتے ہوئے روزے رکھیں گے تو برائیوں سے بچنے کی طرف توجہ پیدا ہو گی۔اللہ تعالیٰ کے احکامات تلاش کر کے ان پر عمل کرنے کی طرف توجہ پیدا ہو گی۔اگر ہم برائیوں سے نہیں بیچ رہے چاہے وہ برائیاں ہماری ذات پر اثر کرنے والی ہیں یا دوسروں کو تکلیف میں ڈالنے والی۔ان کو چھوڑنے سے ہی روزے کا مقصد پورا ہوتا ہے۔اگر ان کو نہیں چھوڑ رہے تو روزے کا مقصد پورا نہیں ہو تا اور یہی تقویٰ ہے۔اگر روزے رکھ کر بھی ہم میں تکبر ہے ، اپنے کاموں اور اپنی باتوں پر بے جا فخر ہے، خود پسندی کی عادت ہے ،لوگوں سے تعریف کروانے کی خواہش ہے، اپنے ماتحتوں سے خوشامد کروانے کو ہم پسند کرتے ہیں جس نے تعریف کر دی اس پر بڑا خوش ہو گئے ، یا اس کی خواہش رکھتے ہیں تو یہ تقویٰ نہیں ہے۔روزوں میں لڑائی جھگڑا، جھوٹ فساد سے اگر ہم بچ نہیں رہے تو یہ تقویٰ نہیں ہے۔روزوں میں عبادتوں اور دعاؤں اور نیک کاموں میں اگر وقت نہیں گزار رہے تو یہ تقویٰ نہیں ہے اور روزے کا مقصد پورا نہیں کر رہے۔پس رمضان میں برائیوں کو چھوڑنا اور نیکیوں کو اختیار کرنا، یہی ہے جس سے روزے کا مقصد پورا ہو تا ہے۔اور جب انسان اس میں ثابت قدم رہنے کی کوشش کرے تو پھر حقیقت میں روزے کے مقصد کو پانے والا ہو و سکتا ہے۔ورنہ اگر یہ مقصد حاصل نہیں کر رہے تو پھر بھوکا رہنا ہے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو تمہارے بھوکا رہنے سے کوئی غرض نہیں ہے۔(صحيح البخارى كتاب الصوم باب من لم يدع قول الزور۔۔۔الخ حديث 1903) اگر تم ان مقاصد کو حاصل نہیں کر رہے۔بعض لوگ روزے کے نام پر دھو کہ بھی دیتے ہیں اور بھوکے بھی نہیں رہتے۔بظاہر یہ اظہار کرتے ہیں کہ ہم نے روزہ رکھا ہوا ہے لیکن روزہ نہیں ہو تا۔ایسے لوگ ہیں جن کو اپنے کھانے پینے پر بھی ضبط نہیں ہے۔جو چند گھنٹے اللہ تعالیٰ کی خاطر اپنے آپ کو کھانے پینے سے نہیں روک سکتے۔جب ایسے لوگ ہیں تو باقی معاملات میں اپنے نفس پر کس طرح ضبط کر سکتے ہیں۔کل ہی کی بات ہے یہاں مسلمانوں کے روزے کے بارے میں اخبار میں ایک جائزہ شائع ہوا اور اس نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ اکثر یہاں کے جو نوجوان ہیں وہ روزہ صرف دکھاوے کے لئے رکھتے ہیں اور روزے کی غرض کا انہیں کچھ پتہ ہی نہیں ہے۔ایک عیسائی نے یا لامذ ہب نے بہر حال غیر مسلم نے ایک نوجوان کا انٹرویو لیا تو اس نوجوان نے کہا کہ ہاں میں نے صبح سحری کھا کر اپنے گھر والوں کے ساتھ روزہ رکھا اور بڑی باقاعدگی سے ہمارے گھر میں سحری اور افطاری کا اہتمام بھی ہوتا ہے۔میری ماں چونسٹھ سال کی ہے۔شوگر کی مریض بھی ہے اور شاید بڑے اہتمام سے روزے بھی رکھتی ہے اس کے باوجود ہمارے لئے افطاری کے لئے قسم قسم کی چیزیں تیار کرتی ہے اور اب ہم جا کے افطاری