خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 14 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 14

خطبات مسرور جلد 16 14 2 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 12 جنوری 2018 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 12 / جنوری 2018ء بمطابق 12/ صلح 1397 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یوکے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میر امذ ہب یہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی ایسی تھی کہ کسی دوسرے نبی کو دنیا میں نہیں ملی۔اسلام کی ترقی کا راز یہی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت جذب زبر دست تھی اور پھر آپ کی باتوں میں وہ تاثیر تھی کہ جو سنتا تھاوہ گرویدہ ہو جاتا تھا۔فرماتے ہیں کہ جن لوگوں کو آپ نے کھینچا انہیں پاک صاف کر دیا۔پھر اس بات کو بیان فرماتے ہوئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ میں کس قسم کی تبدیلیاں پیدا کیں فرماتے ہیں کہ : صحابہ کی حالت کو دیکھتے ہیں تو ان میں کوئی جھوٹ بولنے والا نظر نہیں آتا۔حالانکہ جب عرب کی ابتدائی حالت پر نگاہ کرتے ہیں تو وہ تحت الثری میں پڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔بت پرستی میں منہمک تھے۔یتیموں کا مال کھانے اور ہر قسم کی بدکاریوں میں دلیر اور بے باک تھے۔ڈاکوؤں کی طرح گزارہ کرتے تھے۔گویا سر سے پیر تک نجاست میں غرق تھے۔لیکن ایسا انقلاب آپ نے ان میں پیدا کیا جس کی نظیر دوسری قوموں میں نہیں ملتی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی معجزہ اتنابڑا ہے کہ آپ نے ایک جگہ یہ فرمایا کہ دنیا کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کا درست کرنا مشکل ہو تا ہے۔بہت مشکل ہے کہ کسی ایک ایک آدمی کی بھی اصلاح کی جائے مگر یہاں تو ایک قوم تیار کی گئی کہ جنہوں نے اپنے ایمان اور اخلاص کا وہ نمونہ دکھایا کہ بھیڑ بکری کی طرح اس سچائی کیلئے ذبح ہو گئے جس کو انہوں نے اختیار کیا تھا۔در حقیقت یہ ہے کہ وہ زمینی نہ رہے تھے بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم ، ہدایت اور مؤثر نصیحت نے ان کو آسمانی بنا دیا تھا۔قدسی صفات ان میں پیدا ہو گئی تھیں۔یہ وہ نمونہ ہے جو ہم اسلام کا دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ اسی اصلاح اور ہدایت کا باعث تھا جو اللہ تعالیٰ نے پیشگوئی کے طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام محمد ر کھا جس سے زمین پر آپ کی ستائش ہوئی کیونکہ آپ نے زمین کو امن، صلح کاری اور اخلاق فاضلہ اور نیکو کاری سے بھر دیا تھا۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 3 صفحہ : 84 تا 86)