خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 219 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 219

خطبات مسرور جلد 16 219 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 مئی 2018 آپ کو عزیزہ گوشت اور آئے یا روٹی سے تیار کردہ جو کھانا ہوتا ہے۔وہ پیش کرنے کے لئے روک لیا جو ہم نے آپ کے لئے تیار کیا ہوا تھا۔راوی کہتے ہیں کہ گھر میں محلے کے کچھ اور آدمی ادھر اُدھر سے آگئے۔جب وہ اکٹھے ہو گئے تو ان میں سے کسی کہنے والے نے کہا کہ مالک بن دُختم کہاں ہے ؟ تو ان میں سے کسی نے کہا کہ وہ تو منافق ہے۔اللہ اور اس کے رسول سے محبت نہیں رکھتا۔شاید نہ آنے کی وجہ سے کہا۔اس علاقے میں رہتے تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ مت کہو کیا تم اسے نہیں دیکھتے کہ اس نے لا الہ الا اللہ کا اقرار کیا ہے۔اور اس سے وہ اللہ کی رضامندی ہی چاہتا ہے۔اس کہنے والے نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔پھر اس نے کہا کہ ہم تو اس کی توجہ اور اس کی خیر خواہی منافقین کے لئے ہی دیکھتے ہیں۔شاید دل کی نرمی کی وجہ سے وہ چاہتے ہوں گے کہ منافقین کو بھی تبلیغ کریں اور ان کو اسلام کے قریب لائیں۔اس لئے ہمدردی بھی رکھتے ہوں گے اور اس کی وجہ سے صحابہ میں غلط فہمی پیدا ہو گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے یقینا اس شخص پر آگ حرام کر دی ہے جس نے لا اله إلا الله کا اقرار کیا بشر طیکہ وہ اس اقرار سے اللہ کی رضامندی چاہتا ہو۔(صحیح بخاری کتاب الصلاة باب المساجد في البيوت حدیث 425) تو یہ جواب ہے ان نام نہاد علماء کو بھی جو کفر کے فتوے لگانے والے ہیں اور خاص طور پر احمد یوں پر اس حوالے سے ظلم کرنے والے ہیں۔یہ نام نہاد علماء کے اپنے فتووں نے ہی مسلمان ملکوں کے امن و سکون کو برباد کیا ہوا ہے۔پاکستان میں آجکل لبیک یار سول اللہ تنظیم چلی ہوئی ہے۔وہ نعرے تو لگاتے ہیں۔لبیک یار سول اللہ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہے کہ جو لا إِلهَ إِلَّا اللہ کہتا ہے اس کو بھی تم یہ نہ کہو کہ مسلمان نہیں ہے۔اگر وہ اللہ کی رضا چاہتے ہوئے یہ بات کر رہا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس پر آگ حرام کر دی ہے۔اور یہ کہتے ہیں نہیں تم لوگ اللہ کی رضا چاہتے ہوئے نہیں کہتے۔دلوں کا حال یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ جاننے والے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے قوم کو بچا کے رکھے۔ایک دوسری روایت میں ہے کہ حضرت عتبان بن مالک نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ حضرت مالک بن دخشم منافق ہیں جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا وہ لا الهَ إِلَّا الله کی شہادت نہیں دیتا۔عتبان نے جواب دیا کیوں نہیں مگر اس کی گواہی کوئی نہیں ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا وہ نماز نہیں پڑھتا؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں۔ولا صلوۃ لہ لیکن اس کی نماز کوئی نماز نہیں ہے۔(شاید ان لوگوں میں سے بھی بعض لوگوں میں آجکل کے بعض مولویوں کی طرح یہ سختی تھی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنی طرف سے کسی قسم کی رائے قائم کرنے سے منع فرمایا ہے۔(اسد الغابه جلد 4 صفحه 230 مالك بن الدخشم مطبوعه دار الفكر بيروت 2003ء) دلوں کا حال صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تو اللہ تعالیٰ نے منع فرما دیا لیکن ان علماء اورخاص طور پر پاکستانی علماءکے بقول ان کے پاس یہ سند ہے، لائسنس ہے کہ اللہ تعالی کے نام پر جو چاہیں ظلم کرتے رہیں۔حضرت انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حضرت مالک بن دخشم کو