خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 220 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 220

خطبات مسرور جلد 16 220 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 مئی 2018 برابھلا کہا گیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یالا تَسُبُّواَصْحَابِی۔کہ تم میرے ساتھیوں کو برابھلا مت کہو۔(الاستيعاب جلد 3 صفحه 406 مالك بن الدخشم مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2002ء) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک سے واپسی پر مدینہ سے تھوڑے فاصلے پر ایک جگہ ذی اوان میں قیام فرمایا تو آپ کو مسجد ضرار کے بارے میں وحی نازل ہوئی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مالک بن د ختم اور حضرت معن بن عدی کو بلا بھیجا اور مسجد ضرار کی طرف جانے کا ارشاد فرمایا۔حضرت مالک بن دُختم اور حضرت معن بن عدی تیزی سے قبیلہ بنو سالم پہنچے جو کہ حضرت مالک بن دخشم کا قبیلہ تھا۔حضرت مالک بن دخشم نے حضرت معن سے کہا کہ مجھے کچھ مہلت دو یہاں تک کہ میں گھر سے آگ لے آؤں۔چنانچہ وہ گھر سے کھجور کی سوکھی ٹہنی کو آگ لگا کر لے آئے۔پھر وہ دونوں مسجد ضرار گئے اور ایک روایت کے مطابق مغرب اور عشاء کے درمیان وہاں پہنچے اور وہاں جا کر اس کو آگ لگا دی اور اس کو زمین بوس کر دیا۔( شرح زرقاني على مواهب اللدنيه جلد 4 صفحه 97-98 باب غزوہ تبوك مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1996ء) تو کسی غلط فہمی کی وجہ سے ہم صحابہ پر بدظنی نہیں کر سکتے۔جن کے بارے میں بعض لوگوں کا یہ تاثر تھا کہ شاید یہ غلط راستہ پر چلے ہوئے ہیں یہاں تک کہ انہیں منافق بھی کہہ دیا لیکن بعد میں وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے منافقین کے مرکز کی تباہی کرنے والے بنے اور اس کو ختم کرنے والے بنے۔اللہ تعالیٰ ان صحابہ کے درجات بلند فرماتا چلا جائے اور ہمیں بھی اپنے جائزے لینے کی توفیق عطا فرمائے کہ کیا اللہ تعالیٰ کے احکامات ہیں اور کس حد تک ہم ان کو پورا کرنے والے ہیں۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 01 جون 2018ء تا 07 جون 2018ء جلد 25 شماره 22 صفحہ 05 تا 09)