خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 218 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 218

خطبات مسرور جلد 16 218 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 مئی 2018 کے پیچھے چلتا گیا۔میں نے دیکھا کہ حضرت مالک بن دخشم نے اس کو پیشانی کے بالوں سے پکڑا ہوا تھا۔میں نے کہا یہ میر اقیدی ہے۔میں نے اسے تیر مارا تھا۔لیکن حضرت مالک نے کہا کہ یہ میر اقیدی ہے میں نے اسے پکڑا ہے۔پھر وہ دونوں سہیل کولے کر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے سہیل کو ان دونوں سے لے لیا اور روحاء کے مقام پر سہیل حضرت مالک بن دخشم کے ہاتھ سے نکل گیا۔حضرت مالک نے لوگوں میں بلند آواز سے صدا لگائی اور اس کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر فرمایا کہ جس کو بھی وہ ملے اسے قتل کر دیا جائے۔جنگ کے لئے آئے تھے۔مسلمانوں سے لڑائی کی تھی۔قیدی بنے تو وہاں سے نکل گئے۔دوبارہ خطرہ پید ا ہو سکتا تھا کہ بہر حال وہ جنگی قیدی تھا۔اس کے لئے حکم ہوا۔لیکن اس کی زندگی بچنی تھی۔سہیل بن عمرو بجائے کسی اور کو ملتا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی ملا۔لیکن جب ملا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قتل نہیں کیا۔اگر کسی اور صحابی کے ہاتھ چڑھ جاتا تو وہ قتل کر دیتے۔لیکن چونکہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ملا اس لئے آپ نے قتل نہیں کیا۔یہ اُسوہ ہے اور آپ کا یہ اُسوہ ان ظالموں کو جواب ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پہ یہ الزام لگاتے ہیں کہ آپ نے ظلم کیا اور قتل وغارت کی کہ قتل کا جو سزاوار تھا جس کے لئے فیصلہ بھی ہو چکا تھا وہ بھی جب آپ کو نظر آیا تو آپ نے اسے قتل نہیں کیا۔ایک روایت کے مطابق سہیل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کیکر کے درختوں کے جھنڈ میں ملا تھا۔جس پر آپ نے حکم دیا کہ اس کو پکڑ لو۔اس کے ہاتھ اس کی گردن کے ساتھ باندھ دیئے گئے۔یعنی قید کر لیا گیا۔( تاريخ دمشق لابن عساكر جلد 12 جزء 24 صفحه 333 سهيل بن عمرو بن عبد شمس۔مطبوعه دار احیاء التراث العربي بيروت) صحیح بخاری میں یہ روایت ہے کہ حضرت عتبان بن مالک جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان انصاری صحابہ میں سے تھے جو بدر میں شریک ہوئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا یارسول اللہ ! میری بینائی کمزور ہو گئی ہے۔میں اپنی قوم کو نماز پڑھاتا ہوں۔جب بارشیں ہوتی ہیں تو اس نالے میں جو میرے اور ان کے درمیان ہے سیلاب آ جاتا ہے اور میں ان کی مسجد میں آکر انہیں نماز نہیں پڑھا سکتا۔یارسول اللہ میری خواہش ہے کہ آپ میرے پاس آئیں اور میرے گھر میں نماز پڑھیں اور میں اسے مسجد بنالوں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انشاء اللہ میں آؤں گا۔وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک دن صبح جس وقت دن چڑھا تو میرے ہاں آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت مانگی۔میں نے آپ کو اجازت دی۔جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لائے تو بیٹھے نہیں بلکہ فرمایا کہ تم اپنے گھر میں کہاں چاہتے ہو کہ میں نماز پڑھوں۔وہ کہتے ہیں میں نے گھر کے ایک کونے کی طرف اشارہ کر کے آپ کو بتایا کہ یہاں میں چاہتا ہوں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے وہاں کھڑے ہو گئے۔وہاں نماز پڑھی اور اللہ اکبر کہا اور ہم بھی کھڑے ہو گئے اور صف باندھ لی۔آپ نے دور کعت نماز پڑھی۔پھر سلام پھیرا۔راوی کہتے ہیں ہم نے