خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 217
خطبات مسرور جلد 16 217 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 مئی 2018 بیان کرتے تھے کہ میں نے اس بات کو ناپسند کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی دوسرا اس کو اوڑھے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس چادر کو اوڑھتے اور بچھایا بھی کرتے تھے۔(المنهاج بشرح صحیح مسلم از امام نووی صفحه 749 كتاب الجنائز باب جعل القطيفة في القبر حديث 967 مطبوعه دار ابن حزم 2002ء) غزوہ مریسیع کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت شقران کو قیدیوں اور اہل مریسیع کے کیمپوں سے جو مال و متاع اور اسلحہ اور جانور وغیرہ ملے تھے ان پر نگران مقرر فرمایا تھا۔امتاع الاسماع جلد 6 صفحه 316 فصل فی ذکر موالی رسول الله الله مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1999ء) اس لحاظ سے بڑے قابل اعتماد، قابل اعتبار تھے۔نگرانی کیا کرتے تھے۔ان کے بارے میں ذکر ملتا ہے کہ حضرت عمر نے حضرت شقر ان کے صاحبزادے عبد الرحمن بن شقران کو حضرت ابوموسیٰ اشعری کی طرف روانہ کیا اور لکھا کہ میں تمہاری طرف ایک صالح آدمی عبد الرحمن بن صالح شقران کو بھیج رہا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں ان کے والد کے مقام کا لحاظ رکھتے ہوئے اس سے سلوک کرنا۔(الاصابه جلد 5 صفحه 31 عبد الرحمن بن شقران مطبوعه دارالکتب العلميه بيروت 2005ء) یہ وہ مقام تھا جو اسلام نے غلاموں کو بھی دیا کہ نہ صرف غلامی سے آزاد کیا بلکہ ان کی اولادیں بھی قابل احترام ٹھہریں۔ایک روایت ہے کہ حضرت شقران نے مدینہ میں رہائش اختیار کی تھی اور آپ کا ایک گھر بصرہ میں بھی تھا۔حضرت عمرؓ کے دور خلافت میں آپ کی وفات ہوئی۔(الاصابه جلد 3 صفحه 285 شقران مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2005ء) (امتاع الاسماع جلد 6 صفحه 316 فصل في ذكر موالی رسول الله الله مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1999ء) اگلا ذکر ہے حضرت مالک بن دخشم کا۔ان کا تعلق قبیلہ خزرج کے خاندان بنو غنم بن عوف سے تھا۔آپ کی ایک بیٹی تھیں جن کا نام فریعہ تھا۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 282 مالك بن الدخشم مطبوعه دار إحياء التراث العربي بيروت 1996ء) علماء اس بارے میں اختلاف کرتے ہیں کہ آیا حضرت مالک بن دخشم بیعت عقبہ میں شریک ہوئے تھے یا نہیں۔ابن اسحاق اور موسی بن عقبہ کے نزدیک آپ بیعت عقبہ میں شریک ہوئے تھے۔بہر حال یہ علماء کی بحث چلتی ہی رہتی ہے۔حضرت مالک بن دخشم غزوہ بدر، احد، خندق اور اس کے بعد کے تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہمرکاب رہے۔الاستيعاب جلد 3 صفحه 405 406 مالك ـ بن الدخشم مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2002ء) سہیل بن عمرو قریش کے بڑے اور باعزت سرداروں میں سے ایک تھے۔وہ جنگ بدر میں مشرکین کی طرف سے شامل ہوئے اور ان کو حضرت مالک بن د ختم نے قیدی بنایا۔روایت میں آتا ہے کہ عامر بن سعد اپنے والد حضرت سعد بن ابی وقاص سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے غزوہ بدر کے دن سہیل بن عمرو کو تیر مارا جس سے ان کی رگ کٹ گئی تھی۔میں بہتے ہوئے خون کے دھبوں