خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 216 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 216

خطبات مسرور جلد 16 216 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 مئی 2018 چھوڑ گئے تھے۔لیکن اس وقت آپ میں جان تھی اور اس کے بعد پھر کچھ دنوں میں وہ مدینہ پہنچے اور پھر ان کو زندگی بہر حال مل گئی اور ٹھیک ہو گئے۔(ماخوذ از سیرت خاتم النبیین از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے صفحہ 518 تا519) تیسر ا ذکر حضرت صالح شقر ان کا ہے۔ان کا نام صالح تھا اور لقب شقر ان تھا اور اسی سے آپ معروف تھے۔حضرت صالح شقران حضرت عبد الرحمن بن عوف کے حبشی نژاد غلام تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنی خدمت گزاری کے لئے پسند فرمایا اور حضرت عبدالرحمن کو قیمت دے کر ان سے خرید لیا اور بعض روایات کے مطابق حضرت عبد الرحمن بن عوف نے ان کو بلا معاوضہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نذر کیا تھا۔(اسد الغابه جلد 2 صفحه 392 شقران مطبوعه دار الفکر بيروت 2003ء) حضرت صالح شقران غزوہ بدر میں شریک تھے۔چونکہ اس وقت مملوک تھے آزاد نہیں تھے اس لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا حصہ مقرر نہ فرمایا تھا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صالح شقران کو قیدیوں کا نگران مقرر فرمایا۔حضرت صالح شقران جن لوگوں کے قیدیوں کی نگرانی کرتے تھے وہ بدلہ میں خود معاوضہ دیتے تھے۔چنانچہ ان کو مال غنیمت سے زیادہ مال حاصل ہو ا۔(سیرت ابن کثیر باب ذکر عبيدة۔۔۔صفحه 750 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2005ء) مال غنیمت میں تو حصہ نہیں ملا لیکن اس نگرانی کی وجہ سے مال غنیمت سے زیادہ مال ان کو ملا۔غزوہ بدر کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو آزاد فرما دیا تھا۔(اسد الغابه جلد 2 صفحه 392 شقران مطبوعه دار الفكر بيروت 2003ء) حضرت جعفر بن محمد صادق کہتے ہیں کہ حضرت شقران اہل صفہ میں سے تھے۔(حلية الاولياء جلد اوّل صفحه 348 ذكر اهل الصفة مطبوعه مكتبة الايمان المنصورہ 2007ء) ان لوگوں میں سے تھے جو ہر وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے در پر بیٹھے رہتے تھے۔حضرت شقران کو یہ سعادت حاصل ہوئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل اور تدفین میں بھی شامل تھے۔(الاصابه جلد 3 صفحه 284 شقران مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2005ء) حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی قمیص میں ہی غسل دیا گیا اور آپ کی قبر میں حضرت علی، حضرت فضل بن عباس، حضرت قشم بن عباس اور حضرت شقران اور حضرت اوس بن خولی داخل ہوئے۔(السنن الكبرى للبيهقى جلد 4 صفحه 84 حديث 7143 جماع ابواب التكبير على الجنائز۔۔۔الخ مكتبه الرشد رياض 2004ء ) ( الطبقات الكبرى جلد 2 صفحه 2014 مطبوعه دارالکتب العلمية بيروت 1990ء) حضرت شقر ان اس بارے میں یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی قسم ! میں نے ہی قبر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نیچے مخملی چادر بچھائی تھی۔(سنن الترمذی کتاب الجنائز باب ما جاء في الثوب الواحد الخ حديث 1047) صحیح مسلم کی روایت کے مطابق وہ سرخ رنگ کی مخملی چادر تھی۔(صحيح مسلم كتاب الجنائز باب جعل القطيفة في القبر حديث 2241) یہ وہ چادر تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کو استعمال فرمایا کرتے تھے۔چنانچہ حضرت شقران