خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 215
خطبات مسرور جلد 16 215 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 مئی 2018 بھی شہید ہو گیا۔یہ سن کر حمنہ کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے اور اس نے کہا ہائے افسوس۔یہ دیکھ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دیکھو عورت کو اپنے خاوند کے ساتھ کتنا گہرا تعلق ہوتا ہے۔جب میں نے حمنہ کو اس کے ماموں کے شہید ہونے کی خبر دی تو اس نے پڑھا اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ۔جب میں نے اسے اس کے بھائی کے شہید ہونے کی خبر دی تو اس نے پھر بھی اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ہی پڑھا۔لیکن جب میں نے اس کے خاوند کے شہید ہونے کی خبر دی تو اس نے ایک آہ بھر کر کہا کہ ہائے افسوس اور وہ اپنے آنسوؤں کو روک نہ سکی اور گھبراگئی۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورت کو ایسے وقت میں اپنے عزیز ترین رشتہ دار اور خونی رشتہ دار بھول جاتے ہیں لیکن اسے محبت کرنے والا خاوند یاد رہتا ہے۔اس کے بعد آپ نے حمنہ سے پوچھا تم نے اپنے خاوند کی وفات کی خبر سن کر ہائے افسوس کیوں کہا تھا؟ حمنہ نے عرض کیا یارسول اللہ مجھے اس کے بیٹے یاد آگئے تھے کہ ان کی کون رکھوالی کرے گا۔یہاں خاوند کی محبت اپنی جگہ۔ایک محبت کرنے والا خاوند ہو تو بیوی یاد رکھتی ہے۔لیکن اس کے بچوں کی فکر تھی۔اس کا اظہار انہوں نے کیا۔اور اس میں آجکل کے مردوں کے لئے بھی اور عورتوں کے لئے بھی سبق ہے کہ محبت کرنے والے خاوند بنیں اور بچوں کی فکر کرنے والی مائیں بہنیں۔اور محبت کرنے والے خاوند بننے کے لئے بیوی اور بچوں کے حق ادا کر نے بھی ضروری ہیں جس کی آجکل بڑی شکایتیں ملتی ہیں کہ حق ادا نہیں ہو رہے۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کیسا خوبصورت ارشاد فرمایا۔آپ نے حمنہ کو فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ان کی تمہارے خاوند سے بہتر خبر گیری کرنے والا کوئی شخص پیدا کرے۔یعنی بچوں کی خبر گیری کرنے والا کوئی بہتر شخص پیدا ہو جائے۔چنانچہ اسی دعا کا نتیجہ تھا کہ حمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی شادی حضرت طلحہ کے ساتھ ہوئی اور ان کے ہاں محمد بن طلحہ پیدا ہوئے۔مگر تاریخوں میں ذکر آتا ہے کہ حضرت طلحہ اپنے بیٹے محمد کے ساتھ اتنی محبت اور شفقت نہیں کرتے تھے جتنی کہ حمنہ کے پہلے بچوں کے ساتھ اور لوگ یہ کہتے تھے کہ کسی کے بچوں کو اتنی محبت سے پالنے والا طلحہ سے بڑھ کر اور کوئی نہیں۔اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کا نتیجہ تھا۔(ماخوذ از مصائب کے نیچے برکتوں کے خزانے مخفی ہوتے ہیں ، انوار العلوم جلد 19 صفحہ 56-57) پھر دوسر اذ کر حضرت کعب بن زید کا ہے جو صحابی ہیں۔آپ کا نام کعب بن زید بن قیس بن مالک ہے قبیلہ بنو نجار سے آپ کا تعلق تھا۔حضرت کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ غزوہ بدر میں حاضر ہوئے اور غزوہ خندق میں شہید ہوئے۔کہا جاتا ہے کہ آپ کو اُمیہ بن ربیعہ بن صخر کا تیر لگا تھا۔آپ بئر معونہ کے اصحاب میں سے ہیں جہاں ان کے سب ساتھی شہید ہو گئے تھے۔صرف آپ ہی زندہ بچے تھے۔الاستيعاب جلد 3 صفحه 376 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2002ء) بئر معونہ جو ہے وہ جگہ وہ ہے جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ایک قبیلے کے کہنے پر اپنے ستر صحابہ کو بھیجا جن میں سے بہت سارے حافظ قرآن اور قاری تھے اور ان لوگوں نے دھو کہ سے ان سب کو شہید کر دیا سوائے حضرت کعب کے اور آپ بھی بئر معونہ کے واقعہ میں اس لئے زندہ بچے کہ آپ اس وقت پہاڑی پر چڑھ گئے تھے اور بعض روایات کے مطابق کفار نے حملہ کر کے آپ کو بھی بڑا شدید زخمی کر دیا تھا اور کافر آپ کو مردہ سمجھ کر