خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 214
خطبات مسرور جلد 16 214 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 مئی 2018 گے ؟ تو حضرت عبد اللہ بن جحش نے کہا کہ ہاں مجھے معلوم ہے۔مجھے اللہ تعالیٰ سے اس حالت میں ملنا کہ میں سیر اب ہوں۔(یعنی اچھی طرح کھایا پیا ہو ، ) اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں اس سے پیاسا ہونے کی حالت میں ملوں۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 50 و من حلفاء بني عبد شمس الخ مطبوعه دار احياء التراث العربي بيروت 1996ء) صحابہ کا بھی اللہ تعالیٰ سے پیار کا یہ عجیب انداز ہے اور اس کے لئے ان کے تیاری کے بھی عجیب رنگ ہیں۔حضرت عبد اللہ بن جحش اور حضرت حمزہ بن عبد المطلب کو ایک ہی قبر میں دفن کیا گیا تھا۔حضرت حمزہ حضرت عبد اللہ بن جحش کے ماموں تھے اور شہادت کے وقت آپ کی عمر چالیس سال سے کچھ زائد تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے ترکہ کے ولی بنے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بیٹے کو خیبر میں مال خرید کر دیا۔(اسدالغابه في معرفة الصحابة جلد 3 صفحه 90 عبد الله بن جحش مطبوعه دار الفكر بيروت 2003ء) حضرت عبد اللہ بن جحش کو صائب الرائے ہونے کی فضیلت بھی حاصل تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے متعلق جن صحابہ سے مشورہ مانگا ان میں آپ بھی شامل تھے۔(الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب جلد 3 صفحه 16 عبد الله بن جحش مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2002ء) حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ غزوہ اُحد سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی واپسی پر حضرت عبد اللہ بن جحش کی ہمشیرہ کا ایک واقعہ بیان فرماتے ہیں جو تاریخ میں اس طرح آیا ہے یا آپ نے اپنے الفاظ میں اس طرح بیان کیا کہ اس جنگ میں یعنی اُحد کی جنگ میں ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح بلند حوصلگی اور اپنے اعلیٰ اخلاق کا نمونہ پیش کیا اور لوگوں کے ساتھ ہمدردی اور دلجوئی کی۔اس جنگ کے حالات سے پتا چلتا ہے کہ آپ اخلاق کے کتنے بلند ترین مقام پے کھڑے تھے اور اس جنگ میں صحابہ کی عدیم المثال قربانیوں کا بھی پتہ چلتا ہے۔لکھتے ہیں کہ میں اس وقت کی بات کر رہا ہوں جب آپ جنگ ختم ہونے پر مدینہ واپس تشریف لا رہے تھے۔مدینہ کی عورتیں جو آپ کی شہادت کی خبر سن کر بیقرار تھیں۔اب وہ آپ کی آمد کی خبر سن کر آپ کے استقبال کے لئے مدینہ سے باہر کچھ فاصلہ پر پہنچ گئی تھیں۔ان میں آپ کی ایک سالی حمنہ بنت جحش بھی تھیں۔ان کے تین نہایت قریبی رشتہ دار جنگ میں شہید ہو گئے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں دیکھا تو فرمایا کہ اپنے مُردہ کا افسوس کرو۔یہ عربی زبان کا ایک محاورہ ہے جس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ میں تمہیں خبر دیتا ہوں کہ تمہارا عزیز مارا گیا ہے۔حمنہ بنت جحش نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کس مُردہ کا افسوس کروں۔آپ نے فرمایا تمہارا ماموں حمزہ شہید ہو گیا ہے۔یہ سن کر حضرت حمنہ نے إِنَّا لِلَّهِ وَ اِنَّا اِلَيْهِ رجِعُونَ پڑھا اور پھر کہا اللہ تعالیٰ ان کے مدارج بلند کرے وہ کیسی اچھی موت مرے ہیں۔اس کے بعد آپ نے فرمایا اچھا اپنے ایک اور مرنے والے کا افسوس کر لو۔حمنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس کا؟ آپ نے فرمایا تمہارا بھائی عبد اللہ بن جحش بھی شہید ہو گیا ہے۔حمنہ نے پھر إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ پڑھا اور کہا الحمد للہ وہ تو بڑی اچھی موت مرے ہیں۔آپ نے پھر فرمایا حمنہ ! اپنے ایک اور مردے کا بھی افسوس کرو۔اس نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس کا؟ آپ نے فرمایا تیر اخاوند