خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 213
خطبات مسرور جلد 16 213 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 مئی 2018 تو ان میں سے بعض تر ڈو میں پڑ جاتے۔پس راز داری نے وہ کام کیا جو جنگ میں ایسے مورچے کام دیتے ہیں جنہیں آجکل جنگی اصطلاح میں آوٹ کہا جاتا ہے یاcamouflage بھی کہا جاتا ہے۔(ماخوذ از صحیح البخاری ترجمه و شرح حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب جلد 8 صفحہ 17 کتاب المغازی باب قصہ غزوة بدر مطبوعه ضیاء الاسلام پر میں ربوہ ) تاریخ میں لکھا ہے خدا اور رسول کی محبت نے ان کو تمام دنیا سے بے نیاز کر دیا تھا۔انہیں اگر کوئی تمنا تھی تو صرف یہ کہ جان عزیز کسی طرح راہ خدا میں نثار ہو جائے۔چنانچہ ان کی یہ آرزو پوری ہوئی اور الْمُجَدَّعُ في الله۔( خدا کی راہ میں کان کٹا ہوا) ان کے نام کا امتیازی نشان ہو گیا۔(اسد الغابه جلد 3 صفحه 90 عبد الله بن جحش مطبوعه دار الفكر بيروت 2003ء) حضرت عبد اللہ بن جحش کے بارے میں مزید تفصیل کہ آپ کی دعا کس طرح قبول ہوتی تھی۔آپ کی شہادت سے قبل کی دعا کی قبولیت کا ایک واقعہ مشہور ہے۔اسحاق بن سعد بن ابی وقاص اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن جحش نے میرے والد یعنی سعد سے غزوہ اُحد کے دن کہا کہ آؤ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں چنانچہ دونوں ایک جانب ہو گئے۔پہلے حضرت سعد نے دعا کی کہ اے اللہ جس وقت میں کل دشمنوں سے ملوں تو میر امقابلہ ایسے شخص سے ہو جو حملہ کرنے میں سخت ہو اور اس کا رعب غالب ہو۔پس میں اس سے لڑوں اور اس کو تیری راہ میں قتل کر دوں اور اس کے ہتھیاروں کو لے لوں۔اس پر عبد اللہ بن جحش نے آمین کہی۔اس کے بعد حضرت عبد اللہ بن جحش نے یہ دعا کی کہ اے اللہ ! کل میرے سامنے ایسا شخص آئے جو حملہ کرنے میں سخت ہو اور اس کار عب غالب ہو اس سے میں تیری خاطر قتال کروں اور وہ مجھ سے قتال کرے۔وہ غالب آکر مجھے قتل کر دے اور مجھ کو پکڑ کر میری ناک کان کاٹ ڈالے۔پس جس وقت میں تیرے حضور حاضر ہوں تو تُو مجھ سے پوچھے کہ اے عبد اللہ ! کس کی راہ میں تیری ناک اور تیرے دونوں کان کاٹے گئے۔میں عرض کروں کہ تیری اور تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ میں۔جواب میں تو یہ کہے کہ تو نے سچ کہا۔حضرت سعد کہتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن جحش کی دعا میری دعا سے بہتر تھی۔اس لئے کہ اخیر دن میں میں نے ان کی ناک اور دونوں کانوں کو دیکھا کہ ایک دھاگے میں معلق تھے۔(اسدالغابه جلد 3 صفحه 90 عبد الله بن جحش مطبوعه دار الفکر بيروت 2003ء) یعنی کٹے ہوئے تھے اور انہیں پر دیا ہوا تھا۔یہ ظالمانہ فعل ہے جو وہ کافر کرتے تھے اور یہی آجکل بھی بعض دفعه بعض شدت پسند مسلمان اسلام کے نام پر کر رہے ہیں۔حضرت مطلب بن عبد اللہ بن حنطب کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس روز اُحد کی جانب روانہ ہوئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے راستہ میں مدینہ کے قریب ایک جگہ شیخین کے پاس رات قیام کیا جہاں حضرت اُم سلمہ ایک بھنی ہوئی دستی لائیں جس میں سے آنحضور نے نوش فرمایا۔اسی طرح نبیز لائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبیذ بھی پی۔میراخیال ہے کہ یہ ایک طرح ہریرہ ٹائپ کی کوئی چیز تھی۔پھر ایک شخص نے وہ نبیذ والا پیالہ لے لیا اور اس میں سے کچھ پیا۔پھر وہ پیالہ حضرت عبد اللہ بن جحش نے لے لیا اور اس کو ختم کر دیا۔ایک آدمی نے حضرت عبد اللہ بن جحش سے کہا کہ کچھ مجھے بھی دے دو۔تمہیں معلوم ہے کہ کل صبح تم کہاں جاؤ