خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 212
خطبات مسرور جلد 16 212 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 مئی 2018 بخاری کی ایک حدیث کی شرح کرتے ہوئے حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب نے سریہ عبد اللہ بن جحش کے مثبت نتائج کا ذکر کرتے ہوئے اس کی وضاحت میں لکھا کہ " واقعات بتاتے ہیں کہ اس وفد کو جس غرض کے لئے روانہ کیا گیا تھا اس میں ان کو پوری کامیابی ہوئی اور انہوں نے قیدیوں کے ذریعہ سے قریش مکہ کے منصوبہ اور ان کی نقل و حرکت سے متعلق یقینی اطلاعات حاصل کیں۔حضرمی کے قافلے کا واقعہ ایک ضمنی اور اتفاقی حادثہ تھا اور بعض مورخین نے جو اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ اس مہم کے بعض افراد کو مہاجرین کے غصب شدہ اموال کی تلافی کا خیال پید ا ہوا تھا، یہ رائے صحیح نہیں۔بلکہ اس مہم کا اصل مقصد صرف یہ تھا کہ حضرمی والے قافلے کے ذریعہ ابوسفیان بن حرب کی قیادت میں جانے والے قافلے کی غرض و غایت اور قریش مکہ کے منصوبہ جنگ کے بارہ میں یقینی معلومات حاصل ہو جائیں اور یہی کام بصیغہ راز ان کے سپر د کیا گیا تھا۔اس لئے انہوں نے اس مختصر قافلے کو اپنے قبضہ میں لانے کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔یہ خیال بہت دُور کا ہے کہ وہ بھیجے تو گئے تھے قریش مکہ کی جنگی تیاریوں سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لئے لیکن انہوں نے قافلے کے ٹوٹنے پر قناعت کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس ہونے کو کافی سمجھ لیا۔حضرت عبد اللہ بن جحش " بڑے پایہ کے صحابی تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی۔آپ نے ایک قابل اعتماد راز دار کو اس مہم کے لئے منتخب فرمایا۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قریش مکہ کی جنگی تیاریوں کے متعلق علم ہو گیا تو آپ نے بھی تیاری شروع کر دی اور اس تیاری میں پوری راز داری سے کام لیا۔" (صحیح البخاری ترجمه و شرح حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب جلد 8 صفحہ 15 کتاب المغازی باب قصہ غزوة بدر مطبوعہ ضیاء الاسلام پر لیس ربوہ ) وہ لکھتے ہیں کہ بیشک مغازی میں ایسی روایتیں آتی ہیں یعنی جو جنگوں کی روایات ہیں ان میں یہ آتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبد اللہ بن جحش اور آپ کے ساتھیوں پر ناراضگی کا اظہار فرمایا۔لیکن یہ ناراضگی اس لحاظ سے بجا تھی کہ ان کی مہم سے متعلق ایسی صورت پیدا ہو گئی تھی جو فتنہ کا موجب بن سکتی تھی۔مگر بسا اوقات بعض امور جو بظاہر غلطیاں معلوم ہوتے ہیں منشائے الہی کے تحت صادر ہوتی ہیں اور بعض معمولی واقعات عظیم الشان نتائج پر منتج ہو جاتے ہیں۔پس عین ممکن تھا کہ حضرت عبد اللہ بن جحش کی مہم نہ بھیجی جاتی اور ان سے جو کچھ ہوا وہ نہ ہوتا اور ابوسفیان کی سرکردگی میں شام سے آنے والا قافلہ مکہ میں بلا خطر پہنچ جاتا تو قریش اس قافلے سے فائدہ اٹھا کر بہت بڑی تیاری کے ساتھ مسلمانوں پر حملہ آور ہوتے جس کا مقابلہ کرنا قلیل التعداد بے سروسامان صحابہ کے لئے ناگوار صورت رکھتا۔لیکن حضرت عبد اللہ بن جحش کے واقعہ سے مغرور سر داران قریش آگ بگولہ ہو گئے اور اس طیش اور غرور میں جلدی سے وہ ایک ہزار کے لگ بھگ مسلح افواج کے ساتھ اس زعم میں مقام بدر پر پہنچ گئے کہ وہ اپنے قافلے کو بچائیں اور وہ نہیں جانتے تھے کہ وہیں ان کی موت مقدر ہے۔اور دوسری طرف اس بات کا بھی امکان تھا کہ اگر صحابہ کرام کو یہ معلوم ہوتا کہ ایک مسلح فوج کے مقابلہ کے لئے انہیں لے جایا جارہا ہے