خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 211
خطبات مسرور جلد 16 211 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 مئی 2018 دھمکیوں پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ مدینہ پر حملہ کرنے کی تیاریاں شروع کر دیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان ایام میں یہ کیفیت تھی کہ بسا اوقات آپ ساری ساری رات جاگ کر بسر کرتے تھے۔اسی طرح صحابہ رات کو ہتھیار باندھ کر سویا کرتے تھے تاکہ رات کی تاریکی میں دشمن کہیں اچانک حملہ نہ کر دے۔ان حالات میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک طرف تو مدینہ کے قریب، قرب وجوار میں بسنے والے قبائل سے معاہدات کرنے شروع کر دیئے کہ اگر ایسی صورت پیدا ہو تو وہ مسلمانوں کا ساتھ دیں گے اور دوسری طرف ان خبروں کی وجہ سے کہ قریش حملہ کی تیاری کر رہے ہیں آپ نے 2 ہجری میں حضرت عبد اللہ بن جحش کو بارہ آدمیوں کے ساتھ نخلہ بھجوایا اور انہیں ایک خط دے کر ارشاد فرمایا کہ اسے دودن کے بعد کھولا جائے۔حضرت عبد اللہ بن جحش نے دو دن کے بعد کھولا تو اس میں لکھا تھا کہ تم نخلہ میں قیام کرو اور قریش کے حالات کا پتہ لگا کر ہمیں اطلاع دو۔اتفاق ایسا ہوا کہ اس دوران میں قریش کا ایک چھوٹا سا قافلہ جو شام سے تجارت کا مال لے کر واپس آرہا تھا وہاں سے گزرا۔حضرت عبد اللہ بن جحش نے ذاتی اجتہاد سے کام لے کر ان پر حملہ کر دیا جس کے نتیجہ میں کفار میں سے ایک شخص عمرو بن الحضرمی مارا گیا اور دو گر فتار ہوئے اور مال غنیمت پر بھی مسلمانوں نے قبضہ کر لیا۔جب انہوں نے مدینہ میں واپس آکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس واقعہ کا ذکر کیا تو آپ بہت ناراض ہوئے اور فرمایا کہ میں نے تمہیں لڑائی کی اجازت نہیں دی تھی اور مال غنیمت کو بھی قبول کرنے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا۔ابن جریر نے حضرت ابن عباس کی روایت سے لکھا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن جحش اور ان کے ساتھیوں سے یہ غلطی ہوئی کہ انہوں نے یہ خیال کر لیا کہ ابھی رجب شروع نہیں ہوا حالانکہ رجب کا مہینہ شروع ہو چکا تھا۔وہ خیال کرتے رہے کہ ابھی تیں جمادی الثانی ہے۔رجب کا آغاز نہیں ہوا۔بہر حال عمرو بن الحضرمی کا مسلمانوں کے ہاتھوں مارا جانا تھا کہ مشرکین نے اس بات پر شور مچانا شروع کر دیا کہ اب مسلمانوں کو ان مقدس مہینوں کی حرمت کا بھی پاس نہیں رہا جن میں ہر قسم کی جنگ بند رہتی تھی۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس آیت میں اسی اعتراض کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ بیشک ان مہینوں میں لڑائی کرنا سخت ناپسندیدہ امر ہے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک گناہ ہے۔لیکن اس سے بھی زیادہ ناپسندیدہ بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے راستے سے لوگوں کو روکا جائے اور خدا تعالیٰ کی توحید کا انکار کیا جائے اور مسجد حرام کی حرمت کو باطل کیا جائے اور اس کے باشندوں کو بغیر کسی جرم کے محض اس لئے کہ وہ خدائے واحد پر ایمان لائے تھے اپنے گھروں سے نکال دیا جائے۔تمہیں ایک بات کا خیال تو آگیا مگر تم نے یہ نہ سوچا کہ تم خود کتنے بڑے جرائم کا ارتکاب کر رہے ہو اور خدا اور اس کے رسول کا انکار کر کے اور مسجد حرام کی حرمت کو باطل کر کے اس کے رہنے والوں کو وہاں سے نکال کر کتنے نا پسندیدہ افعال کے مر تکب ہوئے ہو۔جب تم خود ان فتیح حرکات کے مرتکب ہو چکے ہو تو تم مسلمانوں کو کس منہ سے اعتراض کرتے ہو۔ان سے تو صرف نادانستہ طور پر ایک غلطی ہوئی ہے۔مگر تم تو جانتے بوجھتے ہوئے یہ سب کچھ کر رہے ہو۔(ماخوذ از تفسیر کبیر جلد 2 صفحہ 474-475 زير آيت يَسْئَلُونَكَ عن الشهر الحرام۔۔۔الخ البقرة218)