خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 13
خطبات مسرور جلد 16 13 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05 جنوری 2018 سال کی عمر میں ان کی وفات ہو گئی۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ۔علی گوہر وقف ٹو کی تحریک میں شامل تھے۔اس کے دادا چوہدری منور حفیظ صاحب کا تعلق نارووال سے تھا۔انہوں نے علی کا نام اپنے پڑدادا حضرت علی گوہر صاحب کے نام پر رکھا تھا جو کہ خاندان کے پہلے احمدی تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے۔جبکہ عزیزم علی کے نانا مکرم محمد اور میں صاحب کا تعلق حیدرآباد دکن سے ہے۔علی کی والدہ نصرت جہاں ہمارے دفتر کی انگلش ڈاک ٹیم میں کام کرتی ہیں۔حادثہ میں جیسا کہ میں نے کہا اس کی والدہ ہی گاڑی چلا رہی تھیں۔نصرت جہاں کی والدہ یعنی بچے کی نانی بھی ساتھ بیٹھی ہوئی تھیں۔انہیں بھی کافی چوٹیں آئی ہیں اور ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کو بھی صحت و سلامتی والی زندگی دے اور ان کے والدین کو بھی۔بچے کے والدین کو صبر اور حوصلہ عطا فرمائے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ماں نے خاص طور پر بڑے صبر سے اس صدمے کو بر داشت کیا ہے اور بچے تو معصوم ہیں ہی۔اللہ تعالیٰ یقینا بچوں کو فوری جنت میں لے ہی جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ ان کے والدین کو بھی صبر اور حوصلہ عطا فرمائے اور ان کو نعم البدل بھی عطا فرمائے۔نماز کے بعد جیسا کہ میں نے کہا جنازہ پڑھاؤں گا۔جنازہ حاضر ہے۔اس لئے میں باہر جاؤں گا اور احباب یہیں مسجد کے اندر ہی رہیں اور جنازہ میں شامل ہوں۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 26 جنوری 2018ء تا 01 فروری 2018 ء جلد 25 شماره 04 صفحه 05 تا 09)