خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 210
خطبات مسرور جلد 16 210 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 مئی 2018 یہی حالات آجکل پاکستان میں بھی بعض جگہ احمدیوں کے ساتھ ہیں۔بعض گاؤں خالی ہو گئے ہیں۔ابن اسحاق کہتے ہیں کہ جب بنو بخش بن رئاب نے مکہ سے ہجرت کی تو ابوسفیان بن حرب نے ان کے مکان کو عمرو بن علقمہ کے ہاتھ فروخت کر دیا۔جب یہ خبر مدینہ میں حضرت عبد اللہ بن جحش کو پہنچی تو انہوں نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات عرض کی۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عبد اللہ کیا تو اس بات سے راضی نہیں ہے کہ خدا اس کے بدلہ میں تجھ کو جنت میں محل عنایت کرے۔حضرت عبد اللہ بن جحش نے عرض کیا کہ ہاں یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں راضی ہوں۔تو آپ نے فرمایا پس وہ محل تیرے واسطے ہیں۔(سیرت ابن هشام صفحه 352 باب هجرة الرسول عليه الله مطبوعه دار الكتب العلمية بيروت 2001ء) یعنی یہ مکانات جو تم نے چھوڑے ہیں ان کی جگہ تمہیں جنتوں میں جگہ ملے گی وہاں محل تیار ہوں گے۔حضرت عبد اللہ بن جحش کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ میں وادی نخلہ کی طرف بھیجا جس کا ذکر کتب میں اس طرح ملتا ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن جب عشاء کی نماز ادا کر لی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبد اللہ بن جحش کو فرمایا کہ صبح کو اپنے ہتھیاروں سے لیس ہو کر آنا تمہیں ایک جگہ بھیجنا ہے۔چنانچہ جس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن جحش کو اپنے تیر و ترکش، نیزہ اور ڈھال سمیت اپنے گھر کے دروازے پر انتظار کرتے ہوئے کھڑا پایا۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اُبی بن کعب کو بلوایا اور انہیں ایک خط لکھنے کا حکم دیا جب وہ خط لکھا گیا تو حضرت عبد اللہ بن جحش کو بلا کر اس خط کو ان کے سپر د کرتے ہوئے فرمایا کہ میں تمہیں اس جماعت کا نگران مقرر کرتا ہوں جو آپ کی قیادت میں بھیجا گیا تھا۔تاریخ میں آتا ہے کہ اس سے پہلے آپ نے اس جماعت پر حضرت عبیدہ بن حارث کو مقرر کیا تھا لیکن روانگی سے پہلے جب وہ رخصت ہونے کے لئے اپنے گھر گئے تو ان کے بچے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر رونے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبد اللہ بن جحش کو ان کی جگہ امیر بنا کر بھیجا اور حضرت عبد اللہ بن جحش کو بھیجتے وقت آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا لقب امیر المومنین رکھا۔سیرۃ الحلبیہ میں یہ لکھا ہوا ہے۔اس طرح حضرت عبد اللہ بن جحش وہ پہلے خوش نصیب صحابی تھے جن کا دور اسلام میں امیر المومنین لقب رکھا گیا۔(السيرة الحلبية جلد 3 صفحه 217 سرية عبد الله بن جحش الى بطن نخلة مطبوعة دار الكتب العلمية بیروت 2002ء) حضرت مصلح موعود رضی الله تعالى عنہ آیت يَسْتَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيْهِ (البقرة: 218) کی تفسیر میں اس واقعہ کا ذکر ان الفاظ میں فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو اس کے بعد بھی مکہ والوں کے جوش غضب میں کوئی کمی نہ آئی بلکہ انہوں نے مدینہ والوں کو دھمکیاں دینی شروع کر دیں کہ چونکہ تم نے ہمارے آدمیوں کو اپنے ہاں پناہ دی ہے۔اس لئے اب تمہارے لئے ایک ہی راہ ہے کہ یا تو تم ان سب کو قتل کر دو یا مدینہ سے باہر نکال دو ورنہ ہم قسم کھا کر کہتے ہیں کہ ہم مدینہ پر حملہ کر دیں گے اور تم سب کو قتل کر کے تمہاری عورتوں پر قبضہ کر لیں گے۔اور پھر انہوں نے صرف