خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 209 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 209

خطبات مسرور جلد 16 209 19 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 مئی 2018 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 11 مئی 2018ء بمطابق 11 ہجرت 1397 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یوکے تشهد و تعوذ اور سورہ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس آیت کی تلاوت فرمائی: آج میں جن صحابہ کا ذکر کروں گا ان میں سب سے پہلے حضرت عبد اللہ بن جحش کا ذکر ہے۔آپ کی والدہ امیمہ بنت عبد المطلب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رشتہ میں پھوپھی تھیں۔اس طرح آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دارِ ار قم میں جانے سے قبل ہی انہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا۔(اسد الغابہ جلد 3 صفحه 89 عبد الله بن جحش مطبوعه دار الفكر بيروت 2003ء) دایر ار تم وہ مکان ہے یا مرکز ہے جو ایک نو مسلم ارقم بن ارقم کا مکان تھا اور ملکہ سے ذرا سا باہر تھا۔وہاں مسلمان جمع ہوتے تھے اور دین سیکھنے اور عبادت وغیرہ کرنے کے لئے ایک مرکز تھا اور اسی شہرت کی وجہ سے اس کا نام دار الا سلام کے نام سے بھی مشہور ہوا اور یہ مکہ میں تین سال تک مرکز رہا۔وہیں خاموشی سے عبادت کیا کرتے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلسیں لگا کرتی تھیں اور پھر جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسلام قبول کیا تو پھر کھل کر باہر نکلنا شروع کیا۔روایت میں آتا ہے کہ حضرت عمر اس مرکز میں اسلام لانے والے آخری " (ماخوذ از سیرت خاتم النبیین از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے صفحہ 129) بہر حال یہ مرکز بننے سے پہلے ہی حضرت عبد اللہ بن جحش نے اسلام قبول کر لیا تھا اور پھر روایت میں آتا ہے کہ مشرکین قریش کے دست ظلم سے آپ کا خاندان بھی محفوظ نہیں تھا۔آپ نے اپنے دونوں بھائیوں حضرت ابو احمد اور عبید اللہ اور اپنی بہنوں حضرت زینب بنت جحش، حضرت ام حبیبہ اور حمنہ بنت جحش کے ہمراہ دو دفعہ حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ان کے بھائی عبید اللہ حبشہ جاکر عیسائی ہو گئے تھے اور وہیں عیسائی ہونے کی حالت میں ان کی وفات ہوئی جبکہ ان کی بیوی حضرت اُمّ حبیبہ بنت ابو سفیان ابھی حبشہ میں ہی تھیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس وقت نکاح کر لیا۔(اسد الغابه جلد 3 صفحه 89 عبد الله بن جحش مطبوعه دار الفکر بيروت 2003ء) حضرت عبد اللہ بن جحش مدینہ ہجرت سے قبل مکہ آئے اور یہاں سے اپنے قبیلہ بنو غنم میں دُور ان کے تمام افراد کو ( یہ سب کے سب دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے تھے ) ساتھ لے کر مدینہ پہنچے۔انہوں نے اپنے رشتہ داروں سے مکہ کو اس طرح خالی کر دیا تھا کہ محلہ کا محلہ بے رونق ہو گیا اور بہت سے مکانات مقفل ہو گئے۔(الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحه 49 عبد الله بن جحش مطبوعه دار احیاء التراث العربی بیروت 1996ء)