خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 208 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 208

خطبات مسرور جلد 16 208 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 04 مئی 2018 کا خیال رکھا۔انہیں اپنے خاوندوں اور بھائیوں کی جدائی پر ماتم سے روکنے کی بجائے پہلے ان کی توجہ حضرت حمزہ کی طرف پھیری، عظیم قومی صدمہ کی طرف توجہ دلائی جو سب سے بڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غم تھا اور پھر حمزہ پر ماتم اور بہین نہ کرنے کی تلقین فرما کر اپنا نمونہ پیش کر دیا اور انہیں صبر کی تلقین کی، ایسی تلقین جو پر اثر تھی۔جہاں تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت حمزہ کی جدائی کے غم کا تعلق ہے وہ آخر تک آپ کو رہا۔کعب بن مالک نے حضرت حمزہ کی شہادت پر اپنے مرثیہ میں کہا تھا کہ میری آنکھیں آنسو بہاتی ہیں اور حمزہ کی موت پر انہیں رونے کا بجاطور پر حق بھی ہے مگر خدا کے شیر کی موت پر رونے دھونے اور چیخ و پکار سے کیا حاصل ہو سکتا ہے۔وہ خدا کا شیر حمزہ کہ جس صبح وہ شہید ہوا دنیا کہہ اٹھی کہ شہید تو یہ جوانمر د ہوا ہے۔(اسد الغابه جلد 2 صفحه 69 حمزه بن عبد المطلب مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1996ء) اللہ تعالیٰ ان صحابہ کے درجات کو بلند سے بلند تر کرتا چلا جائے اور انہوں نے اپنی قربانیوں کی جو مثالیں قائم کی ہیں وہ رہتی دنیا تک مسلمان یا درکھیں اور انہوں نے جو اُسوہ قائم کیا اور جو نیکیاں کر کے ہمیں دکھائیں ان کو کرنے کی بھی توفیق عطا فرمائے۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 25 مئی 2018ء تا 31 مئی 2018ء جلد 25 شماره 21 صفحہ 05 تا08)