خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 207
خطبات مسرور جلد 16 207 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 04 مئی 2018 بجالانے والا کوئی اور ہو۔اور آج کے بعد آپ پر کوئی غم نہیں۔الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحه 9 حمزه بن عبد المطلب مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا اور مسلمانوں کے اس بہادر سردار حضرت حمزہ کی تدفین جس بے کسی اور کسمپرسی کے عالم میں ہوئی صحابہ بڑے دکھ کے ساتھ اس کا تذکرہ کیا کرتے تھے۔بعد میں فراخی کے دور میں حضرت خباب وہ تنگی کا زمانہ یاد کر کے کہا کرتے تھے کہ حضرت حمزہ کا کفن ایک چادر تھی وہ بھی پوری نہ ہوتی تھی۔چنانچہ سر کو ڈھانک کر پاؤں پر گھاس ڈال دی گئی تھی۔(مسند احمد بن حنبل جلد 7 صفحه -71-72 حدیث 21387 مسند خباب بن الارث مطبوعه عالم الكتب بیروت 1998ء) اسی طرح حضرت عبد الرحمن بن عوف کا بھی اسی قسم کا واقعہ ہے کہ ایک دفعہ روزے سے تھے تو افطاری کے وقت پر تکلف کھانا پیش کیا گیا جسے دیکھ کر انہیں عُسرت کا زمانہ یاد آگیا۔تنگی کا زمانہ یاد آگیا۔کہنے لگے کہ حمزہ بھی شہید ہوئے اور وہ مجھ سے بہتر تھے۔انہیں کفن کی چادر بھی میسر نہ آسکی تھی۔پھر ہمارے لئے دنیا کی کشائش ہوئی۔ہمیں دنیا سے جو ملا ملا اور ہمیں ڈر ہے کہ کہیں ہماری نیکیوں کا ثواب ہمیں جلدی سے نہ دے دیا گیا ہو۔یعنی دنیا میں نہ مل گیا ہو۔پھر وہ رونے لگے اور اتنار وئے کہ انہوں نے کھانا چھوڑ دیا۔(صحيح البخاری کتاب المغازی باب غزوہ احد حدیث 4045) یہ وہ لوگ تھے جن سے اللہ تعالیٰ راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔جو کشائش میں اپنے بھائیوں کو یاد کیا کرتے تھے۔اپنی جو گزشتہ حالت تھی اس کو سامنے رکھتے تھے تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جنتوں کی خوشخبریاں دی ہیں۔اللہ تعالیٰ ان سب کے ساتھ مغفرت کا سلوک فرمائے اور درجات بلند سے بلند تر کر تا چلا جائے۔ایک روایت میں آتا ہے اور یہ حضرت عبد اللہ بن عمر کی روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب اُحد سے واپس لوٹے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا کہ انصار کی عورتیں اپنے خاوندوں پر روتیں اور بین کرتی ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا بات ہے حمزہ کو کوئی رونے والا نہیں ؟ انصار کی عورتوں کو پتہ چلا تو پھر وہ حضرت حمزہ کی شہادت پر بین کرنے کے لئے اکٹھی ہو گئیں۔پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ لگ گئی اور جب بیدار ہوئے تو وہ خواتین اسی طرح رو رہی تھیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج حمزہ کا نام لے کر روتی ہی رہیں گی۔انہیں کہہ دو کہ واپس چلی جائیں۔تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہدایت فرمائی کہ وہ اپنے گھروں کو واپس لوٹ جائیں اور آج کے بعد کسی مرنے والے کا ماتم اور بین نہ کریں۔(مسند احمد بن حنبل جلد 2 صفحه 418-419 حدیث 5563 مسند عبد الله بن عمرو مطبوعه عالم الكتب بیروت 1998ء) تو اس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں پر نوحہ کرنانا جائز قرار دے دیا اور کسی بھی قسم کا جو نوحہ ہے اور بین ہے وہ ختم کر دیا۔بڑی حکمت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کی عورتوں کے جذبات