خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 206
خطبات مسرور جلد 16 206 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 مئی 2018 تو یہ تھی اطاعت اس زمانے کی۔یعنی کہ وہ یہ سنتے ہی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اسے رو کو تو جہاں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام سنا باوجو د غم کی حالت کے، باوجود اس کے کہ وہ بڑی جوش کی حالت میں تھیں فوری طور پر اپنے جذبات کو کنٹرول کیا اور رک گئیں۔یہ کامل اطاعت ہے۔اور کہنے لگیں کہ اپنے بھائی کے لئے کپڑے لائی ہوں۔شہادت کی خبر مجھے مل چکی ہے۔تم انہیں ان کپڑوں میں کفن دے دینا۔جب ہم حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان دو کپڑوں میں کفن دینے لگے تو دیکھا کہ ان کے پہلو میں ایک انصاری شہید ہوئے پڑے ہیں ان کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا گیا تھا جو حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ کیا گیا تھا۔ہمیں اس بات پر شرم محسوس ہوئی کہ حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دو کپڑوں میں کفن دیں اور اس انصاری کو ایک کپڑا بھی میسر نہ ہو۔اس لئے ہم نے یہ طے کیا کہ ایک کپڑے میں حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اور دوسرے میں اس انصاری صحابی رضی اللہ عنہ کو کفن دیں۔اندازہ کرنے پر ہمیں معلوم ہوا کہ ان دونوں حضرات میں سے ایک زیادہ لمبے قد کا تھا۔ہم نے قرعہ اندازی کی اور جس کے نام جو کپڑا نکل آیا اسے اسی کپڑے میں دفنا دیا۔(مسند احمد بن حنبل جلد اوّل صفحه 452 حدیث 1418 مسند زبیر بن العوام مطبوعه عالم الكتب بیروت 1998ء) حضرت حمزہ کو ایک ہی کپڑے میں کفن دیا گیا تھا۔جب آپ کا سر ڈھانکا جاتا تو دونوں پاؤں سے کپڑا ہٹ جاتا اور جب چادر پاؤں کی طرف کھینچ دی جاتی تو آپ کے چہرے سے کپڑا ہٹ جاتا۔تو اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپ کا چہرہ ڈھانک دیا جائے اور پاؤں پر حرمل یا اذخر گھاس رکھ دی جائے۔حضرت حمزہ اور حضرت عبد اللہ بن جحش جو کہ آپ کے بھانجے تھے ایک ہی قبر میں دفن کئے گئے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے حضرت حمزہ کی نماز جنازہ پڑھائی۔الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحه - حمزه بن عبد المطلب مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء)، (مسند احمد بن حنبل جلد 7 صفحه 72 حدیث 21387 مسند خباب بن الارث مطبوعه عالم الكتب بيروت 1998ء) حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حمزہ کی نعش کو سامنے رکھ کر ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔ایک انصاری صحابی کی نعش کو ان کے پہلو میں رکھا گیا اور آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔پھر اس انصاری کی میت اٹھا دی گئی تاہم حضرت حمزہ کی میت وہیں رہنے دی گئی۔یہاں تک کہ اس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس روز حضرت حمزہ کی نماز جنازہ دوسرے باقی شہداء کے ساتھ ستر دفعہ پڑھائی کیونکہ ہر دفعہ حضرت حمزہ کی نعش وہیں پڑی رہتی تھی۔الطبقات الكبرى لا بن سعد جلد 3 صفحه 11 حمزه بن عبد المطلب مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) حضرت ابوہریرۃ سے روایت ہے کہ حضرت حمزہ رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک اور تمام نیک کاموں میں ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے۔چنانچہ شہادت کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حمزہ کی لاش کو مخاطب ہو کر فرمایا اللہ کی رحمتیں تجھ پر ہوں۔آپ ایسے تھے کہ معلوم نہیں کہ ایساصلہ رحمی کرنے والا اور نیکیاں