خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 205 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 205

خطبات مسرور جلد 16 205 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 04 مئی 2018 دیکھ لیا۔ابواسامہ نے کہا کہ اس نے انہیں نیزہ کھینچ کر مارا اور قتل کر دیا۔الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحه 8 حمزه بن عبد المطلب مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) اور حضرت حمزہ ہجرت نبوی کے بعد بتیسویں مہینہ میں جنگ اُحد میں شہید ہوئے۔آپ کی عمر اس وقت انسٹھ سال تھی۔الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحه 6 حمزه بن عبد المطلب مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) روایت یہ ہے کہ ابوسفیان کی بیوی ہند غزوہ اُحد کے دن لشکروں کے ہمراہ آئی۔اس نے اپنے باپ کا انتقام لینے کے لئے جو بدر میں حضرت حمزہ کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے مارا گیا تھا یہ نذرمان رکھی تھی کہ مجھے موقع ملا تو میں حمزہ کا کلیجہ چباؤں گی۔جب یہ صورتحال ہو گئی اور حضرت حمزہ پر مصیبت آگئی تو مشرکین نے مقتولین کو مثلہ کر دیا۔ان کی شکلیں بگاڑ دیں ناک کان وغیرہ عضو کاٹے۔وہ حمزہ کے جگر کا ایک ٹکڑ الائے۔ہند اسے لے کر چباتی رہی کہ کھا جائے مگر جب وہ اس کو نگل نہ سکی تو پھینک دیا۔یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے آگ پر ہمیشہ کے لئے حرام کر دیا ہے کہ حمزہ کے گوشت میں سے کچھ بھی چکھے۔الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحه 8 حمزه بن عبد المطلب مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حمزہ کی نعش کے پاس آکر جن جذبات کا اظہار کیا اور آپ کو بلند مقام کی جو خوشخبری دی اس کے بارہ میں روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت حمزہ کی نعش کو دیکھا تو ان کا کلیجہ نکال کر چبایا گیا تھا۔ابن ہشام کہتے ہیں تاریخ میں یہ لکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حال میں جب حضرت حمزہ کی نعش پر آکر کھڑے ہوئے تو فرمانے لگے کہ اے حمزہ تیری اس مصیبت جیسی کوئی مصیبت مجھے کبھی نہیں پہنچے گی۔میں نے اس سے زیادہ تکلیف دہ منظر آج تک نہیں دیکھا۔پھر آپ نے فرمایا جبریل نے آکر مجھے خبر دی ہے کہ حمزہ بن عبد المطلب کو سات آسمانوں میں اللہ اور اس کے رسول کا شیر لکھا گیا ہے۔(سیرت ابن هشام صفحه 395 باب وقوف النبى على حمزة و حزنه عليه مطبوعه دار ابن حزم بيروت 2009ء) حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ اُحد کے دن اختتام پر ایک عورت سامنے سے بڑی تیزی کے ساتھ آتی ہوئی دکھائی دی۔قریب تھا کہ وہ شہداء کی لاشیں دیکھ لیتی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اچھا نہیں سمجھا کہ کوئی خاتون وہاں آئے اور لاشوں کی جو بہت بری حالت تھی وہ دیکھ سکے۔اس لئے فرمایا کہ اس عورت کو روکو۔اس عورت کو روکو۔حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے غور سے دیکھا کہ یہ میری والدہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا ہیں۔چنانچہ میں ان کی طرف دوڑتا ہوا گیا اور شہداء کی لاشوں تک پہنچنے سے قبل ہی میں نے انہیں جالیا۔انہوں نے مجھے دیکھ کر، میرے سینے پر مار کر مجھے پیچھے کو دھکیل دیا۔وہ ایک مضبوط خاتون تھیں۔اور کہنے لگیں کہ پرے ہٹو میں تمہاری کوئی بات نہیں مانوں گی۔میں نے عرض کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو روکنے کا کہا ہے کہ آپ ان لاشوں کو مت دیکھیں۔یہ سنتے ہی وہ رک گئیں اور اپنے پاس موجود دو کپڑے نکال کر فرمایا یہ دو کپڑے ہیں جو میں اپنے بھائی حمزہ کے لئے لائی ہوں کیونکہ مجھے ان کی شہادت کی خبر مل چکی ہے۔