خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 204 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 204

خطبات مسرور جلد 16 204 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 مئی 2018 العیص کہتے تھے۔مکہ میں عدی کے لئے اس کے ہاں بچہ پیدا ہوا۔اور میں اسے دودھ پلو ایا کرتا تھا اور بچے کو اٹھا کر اس کی ماں کے ساتھ لے جاتا تھا اور وہ بچہ اس کی ماں کو دے دیتا تھا۔میں نے تمہارا پاؤں دیکھا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ وہی ہے۔یعنی اس نے پاؤں سے پہچان لیا۔یہ سن کر عبید اللہ نے اپنا منہ کھول دیا۔تو پھر انہوں نے کہا کہ حضرت حمزہ کے قتل کا واقعہ ہمیں بتاؤ۔اس نے کہا کہ حضرت حمزہ نے طعیمہ بن عدی بن خیار کو بدر میں قتل کیا تھا۔میرے آقا جبیر بن مطعم نے مجھ سے کہا کہ اگر تم میرے چچا کے بدلہ میں حمزہ کو قتل کرو تو تم آزاد ہو۔اس نے کہا جب لوگوں نے دیکھا کہ جنگ اُحد ہونے والی ہے اور عینین اُحد کی پہاڑیوں میں سے ایک پہاڑی ہے۔اُحد کے اور اس کے درمیان ایک وادی ہے۔میں بھی لوگوں کے ساتھ لڑنے کے لئے نکلا۔جب لوگ لڑنے کے لئے صف آراء ہوئے تو سباع میدان میں نکلا اور اس نے پکارا کہ کیا کوئی مقابلہ کرنے کے لئے میدان میں نکلے گا۔یہ سن کر حضرت حمزہ بن عبد المطلب اس کے مقابل نکلے اور کہنے لگے اے سباع ! کیا تم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مقابلہ کرتے ہو۔یہ کہہ کر حضرت حمزہ نے اس پر حملہ کیا اور وہ ایسا ہو گیا جیسے کل کا گزرا ہوا دن۔یعنی فوراہی اس کو زیر کر لیا اور ختم کر دیا۔وحشی کہتا ہے کہ میں ایک چٹان کے نیچے حضرت حمزہ کے لئے گھات میں بیٹھ گیا جب وہ میرے قریب پہنچے تو میں نے اپنا بر چھا مارا اور اس کو ان کے زیر ناف رکھ کر جو زور سے دبایا تو آر پار نکل گیا اور یہی ان کی آخری گھڑی تھی۔جب لوگ لوٹے تو میں بھی ان کے ساتھ لوٹا اور مکہ میں ٹھہرا رہا یہاں تک کہ جب اس میں اسلام پھیلا تو میں وہاں سے نکل کر طائف چلا گیا۔لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اپیچی بھیجے اور مجھ سے کہا گیا کہ آپ ایلچیوں سے تعارض نہیں کرتے۔انہیں یعنی ایلچیوں کو کچھ نہیں کہتے۔میں بھی ان کے ساتھ گیا۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ نے مجھے دیکھ کر فرمایا کہ تم ہی وحشی ہو۔میں نے کہا جی ہاں۔آپ نے فرمایا۔تم نے حمزہ کو قتل کیا تھا؟ میں نے کہا ٹھیک بات ہے جو آپ کو پہنچی ہے۔آپ نے فرمایا تم سے ہو سکے تو میرے سامنے نہ آیا کرو۔وہ کہتے ہیں یہ سن کر میں وہاں سے نکل گیا۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے اور مسیلمہ کذاب نے بغاوت کی تو میں نے کہا میں مسیلمہ کی طرف ضرور جاؤں گا شاید میں اسے قتل کروں اور اس طرح حضرت حمزہ کے گناہ کا کفارہ ادا کروں۔کہتے ہیں کہ میں بھی لوگوں کے ساتھ جنگ میں نکلا۔پھر جنگ کا حال جو ہو اوہ ہوا۔میں نے دیکھا کہ ایک شخص دیوار کے ایک شگاف میں کھڑا ہے۔ایسے معلوم ہوتا تھا کہ جیسے گندمی رنگ کا اونٹ ہے۔سر کے بال پراگندہ ہیں۔تو کہتے ہیں کہ میں نے اس کو اپنا بر چھامارا اور اس کی چھاتیوں کے درمیان رکھ کر زور سے جو دبایا تو دونوں کندھوں کے درمیان سے پار نکل گیا۔اس کے بعد ایک انصاری نے بھی اس کی گردن کاٹ دی۔تو بعد میں یہ انجام اس کا ہو ا۔(صحيح البخارى كتاب المغازى باب قتل حمزة بن عبد المطلب حدیث 4072) عمیر بن اسحاق سے اس طرح مروی ہے کہ اُحد کے روز حمزہ بن عبد المطلب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے دو تلواروں سے جنگ کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ میں اسد اللہ ہوں۔یہ کہتے ہوئے کبھی آگے جاتے اور کبھی پیچھے ہٹتے۔وہ اسی حالت میں تھے کہ یکا یک پھسل کر اپنی پیٹھ کے بل گرے۔انہیں وحشی اسود نے