خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 203
خطبات مسرور جلد 16 203 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 04 مئی 2018 عبیدہ بن حارث! آگے بڑھو۔حمزہ تو عتبہ کی طرف بڑھے اور حضرت علی کہتے ہیں کہ میں شیبہ کی طرف بڑھا اور عبیدۃ اور ولید کے درمیان جھڑپ ہوئی اور دونوں نے ایک دوسرے کو سخت زخمی کیا اور پھر ہم ولید کی طرف متوجہ ہوئے اور اس کو مار ڈالا اور عبیدۃ کو ہم میدان جنگ سے اٹھا کر لے آئے۔(سنن ابو داؤد كتاب الجهاد باب فى المبارزة حديث 2665) حضرت علی اور حمزہ ان دونوں نے تو اپنے اپنے مخالفین کو مار دیا تھا۔جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے حمزہ ! اٹھو۔اور اے علی ! کھڑے ہو۔اے عبیدہ بن حارث ! آگے بڑھو۔اس موقع پر جب تینوں کھڑے ہوئے اور عقبہ کی طرف بڑھے تو عتبہ نے کہا کہ کچھ بات کرو تا کہ ہم تمہیں پہچان لیں کیونکہ وہ خود پہنے ہوئے تھے۔ان کے منہ ڈھانکے ہوئے تھے۔اس موقع پر حضرت حمزہ نے کہا کہ میں حمزہ ہوں جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا شیر ہے تو عتبہ نے کہا اچھا مقابل ہے۔الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 2 صفحه 12 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) حضرت حمزہ کی بہادری کا یہ عالم تھا کہ غزوہ بدر میں کفار میں دہشت ڈالنے کے لئے آپ شتر مرغ کا پر بطور نشان جنگ لگائے ہوئے تھے۔حضرت عبد الرحمن بن عوف سے روایت ہے کہ اُمیہ بن خلف سردار قریش میں سے تھا جو کہ مکہ میں حضرت بلال کو تکالیف دیتا تھا۔غزوہ بدر میں انصار کے ہاتھوں مارا گیا۔اس نے مجھ سے پوچھا کہ یہ کون شخص ہے جس کے سینہ میں شتر مرغ کا پر لگا ہوا ہے۔میں نے کہا کہ یہ حمزہ بن عبد المطلب ہیں۔امیہ کہنے لگا کہ یہی وہ شخص ہے جس نے آج ہمیں سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔(سیرت ابن هشام صفحه 302 باب مقتل اميه بن خلف مطبوعه دار ابن حزم بيروت 2009ء) انگریز مؤرخ سر ولیم میور غزوہ اُحد کے ذکر میں حضرت حمزہ کی موجودگی کے بارہ میں لکھتا ہے کہ حمزہ لہراتے ہوئے شتر مرغ کے پر کے ساتھ ہر جگہ نمایاں نظر آتے تھے۔(The life of Mohammad by sir William Muir, heading Battle of Ohod pg 260 Edition 1923) اور بھی کئی سرداروں کو آپ نے جنگ میں قتل کیا۔غزوہ اُحد میں بھی حضرت حمزہ نے شجاعت کے کمالات دکھائے۔آپ کی یہ بہادری قریش مکہ کی آنکھوں میں سخت کھٹکی تھی۔بخاری میں اس کی تفصیل اس طرح درج ہے کہ : حضرت جعفر بن عمرو بن امیہ ضمری کہتے ہیں کہ میں عبید اللہ بن عدی بن خیار کے ساتھ سفر میں گیا۔جب ہم حمص جو ملک شام کا مشہور شہر ہے اس میں پہنچے تو عبید اللہ بن عدی نے مجھ سے کہا کہ کیا آپ وحشی بن حرب حبشی سے ملنا چاہتے ہیں۔حضرت حمزہ کے قتل کی بابت اس سے پوچھیں گے۔اس نے کہا کہ اچھا اور وحشی حمص میں رہا کر تا تھا۔چنانچہ ہم نے اس کا پتہ دریافت کیا۔ہم سے کہا گیا کہ وہ اپنے محل کے سائے میں بیٹھا ہے جیسے بڑی مشک ہو۔جعفر کہتے ہیں کہ ہم اس کے پاس جا کر تھوڑی دیر کھڑے رہے۔ہم نے السلام علیکم کہا۔اس نے سلام کا جواب دیا۔کہتے تھے: عبید اللہ اس وقت پگڑی اور سر اور منہ لیٹے ہوئے تھے۔وحشی صرف ان کی آنکھیں اور پاؤں ہی دیکھ سکتا تھا۔عبید اللہ نے کہا وحشی کیا مجھے پہچانتے ہو ؟ کہتے تھے کہ اس نے غور سے انہیں دیکھا تو اس نے کہا اللہ کی قسم نہیں۔سوائے اس کے کہ میں اتنا جانتا ہوں کہ عدی بن خیار نے ایک عورت سے شادی کی تھی جسے اُتم قتال بنت ابی