خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 202
خطبات مسرور جلد 16 202 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 مئی 2018 وسلم کی اس دور کی محبت بھری باتیں سنایا کرتی تھیں۔فرماتی تھیں کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے۔میں نے عرض کیا کہ اے خدا کے رسول مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن آپ کو حوض کوثر عطا کیا جائے گا جو بہت وسعت رکھتا ہو گا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں یہ سچ ہے اور یہ بھی سن لو کہ مجھے عام لوگوں سے کہیں زیادہ تمہاری قوم انصار کا اس حوض سے سیراب ہونا پسند ہے۔(مسند احمد بن حنبل جلد 8 صفحه 822 حدیث 27859 مسند خولہ بنت حکیم مطبوعه عالم الكتب بيروت 1998ء) کیسی محبت تھی انصار سے صرف اس لئے کہ جب اپنی قوم نے آپ کو نکالا تو انصار تھے جنہوں نے آپ پر اپنا سب کچھ نچھاور کر دیا۔تاریخ میں غزوہ بدر کے حوالے سے ایک روایت یہ بھی ملتی ہے کہ دو ہجری میں بدر کا مشہور معرکہ پیش آیا تو غزوہ بدر کے موقع پر کفار کی طرف سے اسود بن عبد الاسد مخزومی نکلا۔یہ نہایت ہی شریر اور برا شخص تھا۔اس نے عہد کیا تھا کہ مسلمانوں نے جو پانی کی جگہ رکھی تھی میں ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حوض میں سے جا کر پانی پیوں گا۔یا اسے ڈھاؤں گا، خراب کروں گا یا اس کے پاس مر جاؤں گا۔وہ اس ارادے سے نکلا۔حضرت حمزہ بن عبد المطلب اس کا مقابلہ کرنے آئے۔جب ان دونوں کا آمنا سامنا ہوا تو حضرت حمزہ نے تلوار کا وار کر کے اس کی آدھی پنڈلی کاٹ دی۔وہ حوض کے پاس تھا۔وہ کمر کے بل گرا اور اپنی قسم پوری کرنے کے لئے حوض کی طرف بڑھاتا کہ اپنی قسم پوری کرے۔حضرت حمزہ نے اس کا پیچھا کیا۔ایک اور وار کر کے اسے ختم کر دیا۔(سیرت ابن هشام صفحه 22298 باب مقتل الاسود بن عبد الاسد المخزومی مطبوعه دار ابن حزم بيروت 2009ء) وہ حوض کے قریب مر تو گیا لیکن یہ جو تھا کہ پانی پیوں گا یا خراب کروں گا وہ اسے بہر حال نہ کر سکا۔حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ غزوہ بدر کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ اس میں کفار کی تعداد مسلمانوں سے بہت زیادہ تھی۔رات بھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے حضور عاجزانہ دعاؤں اور تضرعات شخص: میں مصروف رہے۔جب کفار کا لشکر ہمارے قریب ہوا اور ہم ان کے سامنے صف آراء ہوئے تو ناگاہ ایک نظر پڑی جو سرخ اونٹ پر سوار تھا اور لوگوں کے درمیان اس کی سواری چل رہی تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے علی ! حمزہ جو کفار کے قریب کھڑے ہیں انہیں پکار کر پوچھو کہ سرخ اونٹ والا کون ہے اور کیا کہہ رہا ہے ؟ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر ان لوگوں میں سے کوئی شخص انہیں خیر بھلائی کی نصیحت کر سکتا ہے تو وہ سرخ اونٹ والا شخص ہے۔اتنی دیر میں حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی آگئے۔انہوں نے آکر بتایا کہ عقبہ بن ربیعہ ہے جو کفار کو جنگ سے منع کر رہا ہے جس کے جواب میں ابو جہل نے اسے کہا ہے کہ تم بزدل ہو اور لڑائی سے ڈرتے ہو۔عتبہ نے جوش میں آکر کہا کہ آج دیکھتے ہیں کہ بزدل کون ہے۔(مسند احمد بن حنبل جلد اول صفحه -338 339 حدیث 948 مسند على بن ابى طالب مطبوعه عالم الكتب بيروت 1998ء) حضرت علی بیان کرتے ہیں کہ عقبہ بن ربیعہ اور اس کے پیچھے اس کا بیٹا اور بھائی بھی نکلے اور پکار کر کہا کہ کون ہمارے مقابلہ کے لئے آتا ہے تو انصار کے کئی نوجوانوں نے اس کا جواب دیا۔عتبہ نے پوچھا کہ تم کون ہو؟ انہوں نے بتادیا کہ ہم انصار میں سے ہیں۔عتبہ نے کہا کہ ہمیں تم سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ہم تو صرف اپنے چچا کے بیٹوں سے جنگ کا ارادہ رکھتے ہیں۔تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے حمزہ! اٹھو۔اے علی ! کھڑے ہو۔اے