خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 201 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 201

خطبات مسرور جلد 16 201 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 مئی 2018 اور ان کے ساتھی جلدی جلدی وہاں پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ مکہ کارئیس اعظم ابو جہل تین سو سواروں کا ایک لشکر لئے ان کے استقبال کو موجود تھے۔مسلمانوں کی تعداد سے یہ تعداد دس گنا سے زیادہ تھی مگر مسلمان خدا اور اس کے رسول کے حکم کی تعمیل میں گھر سے نکلے تھے اور موت کا ڈر انہیں پیچھے نہیں ہٹا سکتا تھا۔دونوں ایک دوسرے کے متقابل میں ہو گئے۔صف آرائی شروع ہو گئی اور لڑائی شروع ہونے والی تھی کہ اس علاقے کے رئیس مجدی بن عمرو الجھنی نے جو دونوں فریق کے ساتھ تعلقات رکھتا تھا در میان میں پڑ کر بیچ بچاؤ کر وایا اور لڑائی ہوتے ہوتے رک گئی۔(ماخوذ از سیرت خاتم النبیین از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے صفحہ 329) یہ بھی روایت میں آتا ہے کہ جو پہلا لواء تھا یا جھنڈ اتھار سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حمزہ کو عطا کیا تھا۔جبکہ بعض روایتیں یہ ہیں کہ حضرت ابو عبیدہ اور حضرت حمزہ کے سر یہ ایک ساتھ روانہ ہوئے تھے اس سے شبہ پڑتا ہے (کہ جھنڈا کس کو عطا فرمایا) لیکن بہر حال دو ہجری میں غزوہ بنو قینقاع میں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا تھا وہ حضرت حمزہ ہی اٹھائے ہوئے تھے۔(سیرت ابن هشام صفحه 283 باب سرية حمزة الى سيف البحر مطبوعه دار ابن حزم بيروت 2009ء) (الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه: 6 حمزه بن عبد المطلب دار الكتب العلمية بيروت 1990ء) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد پر حضرت حمزہ نے ہمیشہ عمل کیا اور قائم رہے کہ اپنی خود داری اور اپنی عزت نفس کو قائم رکھنا بہتر ہے اور یہ ہمیشہ قائم رکھنی چاہئے۔چنانچہ روایت میں آتا ہے کہ ہجرت مدینہ کے بعد دیگر مسلمانوں کی طرح حضرت حمزہ کے مالی حالات بھی بہت خراب ہو گئے تھے۔حضرت عبد اللہ بن عمر و بیان کرتے ہیں کہ انہی ایام میں ایک روز حضرت حمزہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ کوئی خدمت میرے سپر د فرما دیں تاکہ ذریعہ معاش کی کوئی صورت پیدا کر لوں تورسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا کہ اے حمزہ اپنی عزت نفس قائم اور زندہ رکھنا زیادہ پسند ہے یا اسے مار دینا۔حضرت حمزہ نے عرض کیا میں تو اسے زندہ رکھنا ہی پسند کرتا ہوں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر اپنی عزت نفس کی حفاظت کرو۔(مسند احمد بن حنبل جلد 2 صفحه 624 حديث 6639 مطبوعه عالم الكتب بيروت 1998ء) پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو دعاؤں پر زور دینے کی تحریک فرمائی اور بعض خاص دعائیں سکھائیں۔چنانچہ حضرت حمزہ کی روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اس دعا کو لازم پکڑو کہ اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الْأَعْظَمِ وَرِضْوَانِكَ الْأَكْبَر (الاصابه في تمييز الصحابه جلد 2 صفحه 106 حمزة بن عبد المطلب مطبوعه دار الكتب العلمية بيروت 1995ء) یعنی اے اللہ میں تجھ سے تیرے اسم اعظم اور رضوان اکبر کا واسطہ دے کر سوال کرتاہوں اور ہمیشہ پھر آپ نے اس کے پھل کھائے۔چنانچہ حضرت حمزہ کو دعاؤں پر کتنا ایمان اور یقین تھا ان باتوں کا بھی روایتوں سے اظہار ہوتا ہے اور کیوں نہ ہو تا جبکہ ان دعاؤں ہی کی برکت سے بظاہر اس تہی دست اور تہی دامن مہاجر کو اللہ تعالیٰ نے گھر بار اور ضرورت کا سب کچھ عطا فرمایا۔کچھ عرصہ بعد حضرت حمزہ نے بنی نجار کی ایک انصاری خاتون خولہ بنت قیس کے ساتھ شادی کی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر تشریف لے جایا کرتے تھے۔حضرت خولہ بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ