خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 200
خطبات مسرور جلد 16 200 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 مئی 2018 نے یہ ماجرا دیکھا تو وہ جوش کے ساتھ اٹھے اور انہوں نے حمزہ پر حملہ کرنا چاہا۔مگر ابو جہل جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خاموشی کے ساتھ گالیاں برداشت کرنے کی وجہ سے اور پھر اب حمزہ کی دلیری اور جرات کی وجہ سے مرعوب ہو گیا تھا بیچ میں آگیا اور ان لوگوں کو حملہ کرنے سے روکا اور کہا تم لوگ جانے دو۔دراصل بات یہ ہے کہ مجھ سے ہی زیادتی ہوئی تھی اور حمزہ حق بجانب ہیں۔حضرت مصلح موعودؓ نے اپنے انداز میں پھر لکھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو جس وقت صفا اور مروہ کی پہاڑیوں سے واپس گھر آئے تھے اپنے دل میں یہ کہہ رہے تھے کہ میر اکام لڑنا نہیں ہے بلکہ صبر کے ساتھ گالیاں برداشت کرنا ہے مگر خداتعالی عرش پر کہہ رہا تھا کہ اليْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَہ کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو لڑنے کے لئے تیار نہیں مگر کیا ہم موجود نہیں ہیں جو تیری جگہ تیرے دشمنوں کا مقابلہ کریں۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے اسی دن ابو جہل کا مقابلہ کرنے والا ایک جانثار آپ کو دے دیا اور حضرت حمزہ نے اسی مجلس میں جس میں کہ انہوں نے ابو جہل کے سر پر کمان ماری تھی اپنے ایمان کا اعلان کر دیا اور ابو جہل کو مخاطب ہو کر کہا کہ تو نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دی ہیں صرف اس لئے کہ وہ کہتا ہے کہ میں خدا کا رسول ہوں اور فرشتے مجھ پر اترتے ہیں۔ذراکان کھول کر سن لو کہ میں بھی آج سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین پر قائم ہوں اور میں بھی وہی کچھ کہتا ہوں جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں اگر تجھ میں ہمت ہے تو آمیرے مقابلے پر۔یہ کہہ کر حمزہ مسلمان ہو گئے۔(ماخوذ از رسول کریم صلی الی یکی کی زندگی کے تمام اہم واقعات۔۔الخ۔انوار العلوم جلد 19 صفحہ 137 تا139) روایات میں ہے کہ حضرت حمزہ کے مسلمان ہونے کے بعد مکہ کے جو مسلمان تھے ان کے ایمان کو بڑی تقویت ملی۔الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحه 6 حمزه بن عبد المطلب مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) بلکہ انگریز مؤرخ سر ولیم میور نے بھی اس بات کا اقرار کیا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مقصد کو حضرت حمزہ اور حضرت عمر کے اسلام قبول کرنے سے تقویت ملی۔(The life of Mohammad by sir William Muir, heading the Prophet Insulted pg 89 Edition 1923) حضرت حمزہ نے دیگر مسلمانوں کے ساتھ مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تو حضرت کلثوم بن ھدم کے مکان پر قیام کیا۔اور ایک روایت کے مطابق آپ نے حضرت سعد بن خیثمہ کے ہاں قیام کیا۔بہر حال مدینہ ہجرت کرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حمزہ اور حضرت زید بن حارثہ کے درمیان رشتہ اخوت قائم فرمایا۔اسی بناء پر غزوہ اُحد پر جاتے ہوئے حضرت حمزہ نے حضرت زید کے حق میں وصیت فرمائی تھی۔(الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحه 6 حمزه بن عبد المطلب مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) مدینہ ہجرت کے بعد بھی کفار کی ریشہ دوانیاں ختم نہیں ہوئیں۔ان کی چھیڑ چھاڑ مسلمانوں کو تنگ کرنا ختم نہیں ہوا اس لئے مسلمانوں کو بڑا ہوشیار رہنا پڑتا تھا اور کفار کی نقل و حرکت پر نظر رکھنی پڑتی تھی۔روایت میں ہے قریش کی نقل و حرکت اور ریشہ دوانیوں سے باخبر رہنے کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مہمات کی ضرورت پیش آئی جن میں حضرت حمزہ کو غیر معمولی خدمت کی توفیق ملی۔ربیع الاول دو ہجری کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حمزہ کی قیادت میں تیس شتر سوار مہاجرین پر مشتمل ایک دستہ عیص کی طرف روانہ فرمایا۔حمزہ